تکبیر نیوز (ویسٹ مڈلینڈز): برمنگھم اور بلیک کنٹری میں دو سال سے زائد عرصے تک بڑے پیمانے پر ہیروئن اور کوکین سپلائی کرنے والے منشیات گروہ کے 8 ارکان کو قید کی سزائیں سنادی گئی ہیں، جبکہ گروہ کے ارکان کو مجموعی طور پر 60 سال سے زائد قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔
وولورہیمپٹن کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ گروہ نے دو سال سے زائد عرصے تک منشیات کی سپلائی کا منظم نیٹ ورک چلایا، جس کے ذریعے مجموعی طور پر تقریباً 18.5 کلوگرام اے کلاس منشیات ویسٹ مڈلینڈز کے مختلف علاقوں میں فروخت کی گئیں۔
عدالت کے مطابق یہ نیٹ ورک ہفتے کے ساتوں دن کام کرتا تھا اور اس سے وابستہ منشیات فروش اوسطاً روزانہ 20 گھنٹے سرگرم رہتے تھے۔
خفیہ پولیس اہلکاروں نے نیٹ ورک کا سراغ لگایا
گروہ کے خلاف تحقیقات کے دوران خفیہ پولیس اہلکاروں نے نیٹ ورک سے منشیات کی آزمائشی خریداری کی، جس کے بعد پولیس کو اس منظم گروہ کے خلاف مزید شواہد اکٹھے کرنے میں مدد ملی۔
تحقیقات کے نتیجے میں دو سال سے زائد عرصے سے سرگرم اس منشیات نیٹ ورک کو توڑ دیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ یہ برمنگھم سے چلنے والا ایسا منظم نیٹ ورک تھا جس کے ذریعے منشیات ویسٹ مڈلینڈز کے مختلف علاقوں، خصوصاً برمنگھم اور بلیک کنٹری میں پہنچائی جاتی تھیں۔
8 ارکان کو قید کی سزائیں
عدالت کی جانب سے کوارنے لی ٹیلر کو سب سے زیادہ 12 سال 7 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
دیگر مجرموں کو ان کے جرائم کے مطابق تقریباً 5 سے 10 سال تک قید کی مختلف سزائیں دی گئیں۔
سزا پانے والوں میں:
کوارنے لی ٹیلر، بریڈلی واٹمور، زہیب عبدی، آسا میک انٹوش، ریس میکڈونلڈ، وقاص حسین اور حکیم علی شامل ہیں۔
فراہم کردہ تفصیلات میں آٹھ افراد کو سزا سنائے جانے کا ذکر ہے، تاہم دستیاب متن میں صرف سات افراد کے نام دیے گئے ہیں۔
منشیات کے مقروض شخص کو اغوا بھی کیا گیا
عدالت میں یہ بھی سامنے آیا کہ گروہ کے دو ارکان نے منشیات کی رقم واجب الادا ہونے پر ایک نشے کے عادی شخص کو اغوا کیا۔
مقدمے کی تفصیلات کے مطابق متاثرہ شخص کو اغوا کرنے کے بعد برہنہ حالت میں سڑک پر چھوڑ دیا گیا تھا۔
گروہ کے ارکان کو سنائی گئی تمام سزاؤں کو ملا کر قید کی مجموعی مدت 60 سال سے زیادہ بنتی ہے۔
اس مقدمے میں سب سے طویل سزا کوارنے لی ٹیلر کو دی گئی جبکہ دیگر مجرموں کو ان کے کردار اور جرائم کے مطابق مختلف مدت کی سزائیں سنائی گئیں۔
