تکبیر نیوز (ناٹنگھم شائر): ناٹنگھم شائر میں 9 سالہ بچے سے طویل عرصے تک بدسلوکی اور اسے نامناسب حالات میں رکھنے کے جرم میں سابق پولیس ملازمہ کیتھرین واکر کو 6 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔
47 سالہ کیتھرین واکر، جنہیں کیتھرین/کیتھرین واکر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بچے کی قانونی سرپرست تھیں۔ 9 سالہ بچہ 16 دسمبر 2024 کی صبح ناٹنگھم شائر کے علاقے وارسوپ میں واقع گھر کے اپنے کمرے میں بے ہوش حالت میں پایا گیا تھا۔
ہنگامی اداروں کو گھر پر طلب کیا گیا اور بچے کو ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں اس کی موت ہوگئی۔
پولیس کو طویل عرصے تک بدسلوکی کے شواہد ملے
واقعے کے بعد تحقیقات کرنے والے پولیس افسران کو ایسے شواہد ملے جن سے ظاہر ہوا کہ بچے کے ساتھ ایک طویل عرصے سے بدسلوکی کی جارہی تھی۔
پولیس کے مطابق بچے کا کمرہ گھر کے دیگر حصوں کے بالکل برعکس تھا اور اس میں بنیادی سہولتیں تک موجود نہیں تھیں۔
کمرے میں:
- کھڑکیوں پر پردے نہیں تھے
- بہت کم فرنیچر موجود تھا
- ریڈی ایٹر نہیں تھا
- بجلی کا ایک ساکٹ دیوار سے لٹک رہا تھا
- دروازے کا ہینڈل موجود نہیں تھا
- دروازے کے باہر باتھ روم طرز کا تالا لگا ہوا تھا
پولیس کے مطابق یہ ایسے حالات تھے جن کا کسی بچے کو سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
کمرے کی مرمت کا دعویٰ غلط نکلا
کیتھرین واکر نے ابتدائی طور پر پولیس کو بتایا تھا کہ بچے کے کمرے میں مرمت کا کام جاری تھا۔
تاہم پولیس تحقیقات میں اس دعوے کی تصدیق نہیں ہوسکی اور اسے غلط قرار دیا گیا۔
واکر نے بعد میں بچے کو غیر ضروری تکلیف اور جسمانی نقصان پہنچانے والی غفلت کے دو الزامات میں جرم قبول کرلیا۔
عدالت نے انہیں 6 سال قید کی سزا سنائی۔
سابق شوہر بچے کی بنیادی دیکھ بھال کرتا تھا
عدالت کو بتایا گیا کہ واکر کا سابق شوہر، جو واقعے کے کچھ عرصے بعد انتقال کرگیا تھا، بچے کی بنیادی دیکھ بھال کا ذمہ دار تھا اور بچے کے ساتھ کیے جانے والے سلوک میں زیادہ تر اسی کا کردار تھا۔
تاہم عدالت نے واکر کے اپنے کردار اور بچے کے حالات کو چھپانے کی کوشش کو بھی انتہائی سنگین قرار دیا۔
سزا سناتے ہوئے جج نے کہا کہ واکر نے بچے کے ساتھ ہونے والی ذلت آمیز بدسلوکی کو چھپانے کی کوشش کی اور اپنے اقدامات کے باعث خود کو عمر بھر کی شرمندگی سے دوچار کردیا ہے۔
واقعے کے وقت پولیس کی ملازمہ تھیں
بچے کی موت کے وقت کیتھرین واکر ناٹنگھم شائر پولیس میں ملازمت کررہی تھیں۔
تحقیقات شروع ہونے کے بعد انہیں ملازمت سے معطل کردیا گیا تھا اور وہ پوری تحقیقات کے دوران معطل رہیں۔
’انتہائی دل دہلا دینے والا مقدمہ‘
ناٹنگھم شائر پولیس کی ڈیٹیکٹو چیف انسپکٹر گیل روٹلیج نے مقدمے کو اپنے کیریئر کے انتہائی افسوسناک اور دل دہلا دینے والے مقدمات میں سے ایک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ 9 سالہ بچے کے ساتھ ایک طویل عرصے تک واضح طور پر بدسلوکی کی گئی اور اسے ایسے حالات میں رکھا گیا جن کا کسی بچے کو سامنا نہیں کرنا چاہیے۔
پولیس کے مطابق استغاثہ کا مؤقف یہ تھا کہ بچے کے ساتھ یہ سلوک محض ناقص پرورش یا لاپرواہی کا نتیجہ نہیں بلکہ جان بوجھ کر کیے گئے اقدامات تھے۔
