تکبیر نیوز (لندن): نیوزی لینڈ میں بزرگ شہریوں سے 4 لاکھ ڈالر سے زائد نقد رقم اور سونا ہتھیانے کے فراڈ میں سزا پانے اور بعد ازاں برطانیہ ڈی پورٹ کیے جانے والے 28 سالہ ریس سیلمون کو لندن میں چاقو کے متعدد وار کرکے قتل کردیا گیا، جبکہ اس کے ماضی کے برطانیہ میں سنگین جرائم سے تعلق کی مزید تفصیلات بھی سامنے آئی ہیں۔
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق ریس سیلمون 16 ستمبر کو شمالی لندن کے علاقے کلرکن ویل میں چاقو کے متعدد وار سے ہلاک ہوا۔
قتل کے سلسلے میں تاحال کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا اور پولیس کی تحقیقات جاری ہیں۔
نیوزی لینڈ میں بزرگ شہریوں سے فراڈ
ریس سیلمون کو حال ہی میں نیوزی لینڈ سے ڈی پورٹ کیا گیا تھا، جہاں اسے بزرگ شہریوں سے بڑے پیمانے پر فراڈ میں کردار پر 4 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔
اس نے دھوکا دہی کے ذریعے رقم حاصل کرنے کے 15 جرائم اور دھوکا دہی کے ذریعے رقم حاصل کرنے کی کوشش کے 2 جرائم کا اعتراف کیا تھا۔
نیوزی لینڈ پولیس کے مطابق سیلمون برطانیہ سے چلائے جانے والے ایک ایسے فراڈ نیٹ ورک کا حصہ تھا جو خود کو پولیس افسر ظاہر کرکے بزرگ افراد کو نشانہ بناتا تھا۔
متاثرین کو یہ باور کرایا جاتا تھا کہ وہ ایک خفیہ پولیس تحقیقات میں مدد کررہے ہیں اور اسی بہانے ان سے نقد رقم اور سونا حاصل کیا جاتا تھا۔
69 سے 95 سال عمر کے افراد کو نشانہ بنایا گیا
نیوزی لینڈ پولیس کے مطابق سیلمون اس نیٹ ورک میں رقم اور سونا وصول کرنے والے شخص کے طور پر کام کرتا تھا۔
ویلنگٹن کے علاقے میں نشانہ بنائے گئے متاثرین کی عمریں 69 سے 95 سال کے درمیان تھیں اور مجموعی طور پر 4 لاکھ نیوزی لینڈ ڈالر سے زائد نقد رقم اور سونا حاصل کیا گیا۔
سیلمون کو فروری میں پیرول دی گئی تھی اور 25 مئی کو نیوزی لینڈ سے برطانیہ ڈی پورٹ کردیا گیا تھا۔
برطانیہ میں بھی جیل جاچکا تھا
رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ جانے سے قبل بھی ریس سیلمون برطانیہ میں سنگین جرائم کے مقدمے میں سزا کاٹ چکا تھا۔
2019 میں اسے لندن میں ایزی کیش گینگ، جسے ای سی ون بھی کہا جاتا تھا، سے متعلق ڈکیتی کی سازش کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔
اس نے ڈکیتی کی سازش کا جرم قبول کیا تھا اور اسے 3 سال 9 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
اس گروہ کے چھ ارکان کو مجموعی طور پر تقریباً 30 سال قید کی سزائیں دی گئی تھیں۔
وسطی لندن میں ڈکیتیوں کا سلسلہ
رپورٹ کے مطابق یہ گروہ لندن کے آئزلنگٹن کے علاقے میں سرگرم تھا اور اسے ڈکیتیوں اور موبائل فون چھیننے کے متعدد واقعات سے جوڑا گیا تھا۔
گروہ کے ارکان 2018 میں تقریباً دو ماہ تک وسطی لندن میں ہونے والی وارداتوں سے منسلک تھے، جن میں مہنگے زیورات اور فیشن کی دکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق بعض وارداتوں میں کلہاڑیوں، سامورائی تلواروں اور چاقوؤں سمیت مختلف ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔
ریس سیلمون نے کیمڈن، آئزلنگٹن، ویسٹ منسٹر اور سٹی آف لندن میں ہونے والے جرائم سے متعلق ڈکیتی کی سازش کا جرم قبول کیا تھا۔
نیوزی لینڈ کے جج نے واپسی پر خبردار کیا تھا
گزشتہ سال نیوزی لینڈ میں سزا سناتے وقت ویلنگٹن ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج جان واکر نے سیلمون کے جرائم پیشہ گروہوں سے سابقہ تعلق کا ذکر کیا تھا۔
جج نے اسے خبردار کیا تھا کہ برطانیہ واپسی پر اس کے پاس انتخاب ہوگا کہ وہ ایسے لوگوں سے تعلق جاری رکھتا ہے یا خود کو ان سے الگ کرکے اپنے ساتھی اور بچے پر توجہ دیتا ہے۔
لندن میں قتل کی تحقیقات جاری
نیوزی لینڈ سے ڈی پورٹ کیے جانے کے تقریباً چار ماہ بعد ریس سیلمون لندن میں چاقو حملے میں ہلاک ہوگیا۔
میٹروپولیٹن پولیس قتل کی تحقیقات کررہی ہے اور فراہم کردہ معلومات کے مطابق ابھی تک کسی مشتبہ شخص کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
فی الحال ایسی کوئی معلومات سامنے نہیں آئیں جن سے یہ ثابت ہو کہ سیلمون کے قتل کا اس کے ماضی کے جرائم، سابقہ گروہی تعلقات یا نیوزی لینڈ میں کیے گئے فراڈ سے کوئی تعلق تھا۔
یہ بھی واضح نہیں کہ امیگریشن نیوزی لینڈ کو سیلمون کے ملک میں داخل ہونے کے وقت برطانیہ میں 2019 کی اس کی سابقہ سزا کے بارے میں علم تھا یا نہیں۔
