تکبیر نیوز (ویسٹ یارکشائر): ویسٹ یارکشائر پولیس کے ایک ملازم کو بچے کے ساتھ جنسی سرگرمی کا انتظام کرنے کی کوشش اور بچوں کی نازیبا تصاویر سے متعلق جرائم میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد 5 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔
33 سالہ کرسٹوفر تھامسن ویسٹ یارکشائر پولیس کی علاقائی سائنسی معاونت کی خدمات سے وابستہ تھا۔
پولیس کے مطابق جنوری 2024 میں دو خواتین کو بھیجے گئے پیغامات کے بعد معاملہ سامنے آیا، جس پر تھامسن کو گرفتار کرکے فوری طور پر ملازمت سے معطل کردیا گیا۔
ضبط کیے گئے آلات سے بچوں کی نازیبا تصاویر برآمد
تحقیقات کے دوران تھامسن کے الیکٹرانک آلات قبضے میں لیے گئے، جن میں بچوں کی نازیبا تصاویر پائی گئیں۔
مقدمہ ہل کراؤن کورٹ میں چلایا گیا، جہاں عدالتی کارروائی کے بعد تھامسن کو مختلف جرائم میں قصوروار قرار دیا گیا۔
ان میں:
- بچوں کی نازیبا تصاویر بنانے یا حاصل کرنے سے متعلق دو جرائم
- بچے کے ساتھ جنسی سرگرمی کا انتظام کرنے کی کوشش کا ایک جرم
- بدنیتی پر مبنی پیغامات بھیجنے کا ایک جرم
شامل تھا۔
5 سال قید، مزید ایک سال نگرانی
عدالت نے کرسٹوفر تھامسن کو 5 سال قید کی سزا سنائی، جس کے ساتھ رہائی کے بعد مزید ایک سال لائسنس پر نگرانی کی مدت بھی مقرر کی گئی ہے۔
اسے تاحیات جنسی جرائم کے مرتکب افراد کے رجسٹر میں بھی شامل کردیا گیا ہے۔
عدالت نے غیر معینہ مدت کیلئے پابندی کے احکامات بھی جاری کیے ہیں، جن کے تحت تھامسن دونوں متاثرہ افراد سے رابطہ نہیں کرسکے گا۔
پولیس: اطلاع ملتے ہی فوری کارروائی کی گئی
ویسٹ یارکشائر پولیس میں پیشہ ورانہ معیار کے شعبے کی سربراہ ڈیٹیکٹو چیف سپرنٹنڈنٹ تانیا ولکنز نے کہا کہ پولیس ملازم انتہائی تشویشناک آن لائن سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا اور اس نے ایک بچے کے ساتھ جنسی سرگرمی کا انتظام کرنے کی کوشش بھی کی۔
ان کے مطابق پولیس کو معلومات ملنے کے بعد فوری کارروائی کی گئی اور جیسے ہی معلوم ہوا کہ مشتبہ شخص پولیس کا ملازم ہے، اسے گرفتار کرکے فوری طور پر ڈیوٹی سے معطل کردیا گیا۔
مستقبل میں پولیس میں ملازمت روکنے کی کارروائی
ویسٹ یارکشائر پولیس کے مطابق اب کرسٹوفر تھامسن کے خلاف محکمانہ کارروائی بھی کی جائے گی۔
اس کارروائی کا مقصد اسے مستقبل میں دوبارہ پولیس کے کسی ادارے میں ملازمت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔
