تکبیر نیوز (لندن): برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس نے غزہ میں اسرائیلی فوج (IDF) کے ساتھ خدمات انجام دینے والے بعض برطانوی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات بند کرنے کا سابق فیصلہ واپس لیتے ہوئے کیس کا دوبارہ جائزہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
یہ معاملہ پبلک انٹرسٹ لا سینٹر (PILC) اور فلسطینی مرکز برائے انسانی حقوق (PCHR) کی جانب سے اگست 2025 میں جمع کرائی گئی 240 صفحات پر مشتمل رپورٹ کے بعد سامنے آیا تھا۔ رپورٹ میں دس برطانوی یا دوہری شہریت رکھنے والے افراد پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے ساتھ خدمات انجام دیتے ہوئے مبینہ طور پر جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا۔
رپورٹ میں شامل الزامات میں جان بوجھ کر قتل، شہری آبادی پر حملے، جبری بے دخلی اور دیگر بین الاقوامی جرائم شامل تھے۔ یہ الزامات درخواست گزار تنظیموں کی جانب سے پیش کیے گئے ہیں اور عدالت میں ثابت نہیں ہوئے۔
ابتدائی طور پر میٹ پولیس نے صرف چار قابل شناخت برطانوی شہریوں کے معاملات کا جائزہ لیا تھا اور اپریل 2026 میں درخواست گزاروں کو آگاہ کیا تھا کہ فوجداری تحقیقات آگے نہیں بڑھائی جائیں گی، کیونکہ پولیس کے مطابق مؤثر تحقیقات یا سزا کا حقیقت پسندانہ امکان موجود نہیں تھا۔
تاہم گزشتہ ہفتے PILC کو بھیجے گئے ایک خط میں میٹ پولیس نے اپنے سابق مؤقف سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ اب ان چار افراد کے حوالے سے "Fresh Scoping Exercise” کیا جائے گا، جس کے ذریعے یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا مکمل فوجداری تحقیقات شروع کی جائیں یا نہیں۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب برطانوی نژاد فلسطینی انسانی حقوق کی کارکن لبنیٰ سپیتان کی جانب سے پولیس کے فیصلے کے خلاف عدالتی نظرثانی (Judicial Review) کی کارروائی کی دھمکی دی گئی۔
انسانی حقوق کے وکیل مائیکل مینسفیلڈ KC نے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ جنگی جرائم کے الزامات کی تحقیقات سیاسی حساسیت یا ملزمان کی شہریت سے بالاتر ہو کر ہونی چاہئیں۔
رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اکتوبر 2023 کے بعد سے 2,000 سے زائد برطانوی شہری یا دوہری شہریت رکھنے والے افراد اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اسرائیل میں معلومات تک رسائی کے قانون (FOI) کے تحت حاصل کیے گئے تھے، جبکہ برطانوی حکومت کے پاس اس حوالے سے باضابطہ ریکارڈ موجود نہیں۔
یہ خبر درخواست گزار تنظیموں، قانونی نمائندوں اور میٹروپولیٹن پولیس کے بیانات پر مبنی ہے۔ رپورٹ میں شامل جنگی جرائم کے الزامات عدالت میں ثابت نہیں ہوئے، اور میٹ پولیس کی جانب سے اس مرحلے پر صرف ابتدائی جائزہ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، کسی فرد کے خلاف جرم ثابت نہیں ہوا۔
