تکبیر نیوز (برمنگھم): ویسٹ مڈلینڈز پولیس کی ایک سابق ملازمہ، جن کی شناخت قانونی وجوہات کی بنا پر ظاہر نہیں کی گئی، نے گھریلو تشدد کا نشانہ بننے کے اپنے تجربے کو عوام کے سامنے بیان کرتے ہوئے دیگر متاثرین سے مدد لینے کی اپیل کی ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ان کے سابق شوہر محمد مصطفیٰ کو رواں ماہ برمنگھم کراؤن کورٹ نے سزا سنائی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ 2023 میں تعلق کے آغاز ہی سے محمد مصطفیٰ نے خاتون کو قابو میں رکھنے، ان پر کنٹرول قائم کرنے اور تشدد کا سلسلہ شروع کر دیا تھا۔ متاثرہ خاتون نے کہا کہ ابتدا میں انہوں نے ان رویوں کو محبت یا تحفظ کا اظہار سمجھا، مگر بعد میں انہیں احساس ہوا کہ یہ گھریلو تشدد کی علامات تھیں۔
خاتون نے کہا:
"میں نے سیکھا ہے کہ تشدد اس طرح شروع نہیں ہوتا جس طرح لوگ سمجھتے ہیں۔ یہ ہمیشہ جسمانی تشدد سے شروع نہیں ہوتا۔”
انہوں نے کہا کہ گھریلو تشدد کسی بھی شخص کے ساتھ ہو سکتا ہے، اس لیے متاثرین کو خاموش رہنے کے بجائے مدد حاصل کرنی چاہیے۔
انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ Clare’s Law کے بارے میں آگاہی حاصل کریں، جس کے تحت کوئی بھی شخص پولیس سے اپنے موجودہ یا ممکنہ شریک حیات کے پرتشدد ماضی کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی درخواست کر سکتا ہے۔
