تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم کی 28 سالہ ڈیوینا فراسٹ (Davina Frost) کو ایک پرائمری اسکول کو بم سے اڑانے کی جھوٹی دھمکی دینے کے مقدمے میں سزا سنائی گئی ہے۔
برمنگھم کراؤن کورٹ میں 22 جولائی کو ہونے والی سماعت میں فراسٹ نے اعتراف جرم کیا کہ انہوں نے اپنے بچوں کے زیر تعلیم پرائمری اسکول کو متعدد توہین آمیز پیغامات بھیجے، جن کے بعد بم کی جھوٹی دھمکی دی گئی۔
اس واقعے کے باعث اسکول کے تقریباً 400 طلبہ کو حفاظتی لاک ڈاؤن میں جانا پڑا۔
عدالت نے قرار دیا کہ ملزمہ شدید ذہنی بیماری کا شکار ہیں اور ان کا کیس "غیر معمولی نوعیت” کا ہے، اسی بنیاد پر انہیں 16 ماہ قید کی سزا سنائی گئی، تاہم یہ سزا دو سال کے لیے معطل کر دی گئی۔
عدالت نے ملزمہ کو 20 دن تک بحالی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور نو ماہ کے ذہنی صحت کے علاج کے پروگرام میں شرکت کرنے کا بھی حکم دیا۔
عدالتی کارروائی کے مطابق متعلقہ اسکول برمنگھم کے ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں مسلم آبادی کی قابلِ ذکر تعداد رہتی ہے۔
