(تکبیر نیوز—- برطانیہ، لندن) برطانوی حکومت نے انگلینڈ میں گھروں پر الیکٹرک گاڑیوں (EV) کے چارج پوائنٹس نصب کرنے کیلئے پلاننگ پرمیشن کی شرط ختم کر دی ہے۔
نئے فیصلے کے تحت اب بیشتر گھروں، کاروباری مقامات اور پبلک ایریاز میں EV چارجرز لگانے کیلئے الگ سے پلاننگ اجازت درکار نہیں ہوگی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے الیکٹرک گاڑیوں کی جانب منتقلی تیز ہوگی جبکہ عوام کو کم کاغذی کارروائی اور کم اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لیبر حکومت 2030 تک پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کے خاتمے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔
برطانوی حکومت نے واضح کیا ہے کہ 2030 کے بعد نئی پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی فروخت بند کر دی جائے گی۔
برطانیہ کی وزیر برائے مستقبلِ سڑکیں Lilian Greenwood نے کہا:
“ہم EV انقلاب کو تیز کرنے کیلئے غیر ضروری کاغذی کارروائی ختم کر رہے ہیں تاکہ لوگ آسانی سے چارج پوائنٹس نصب کر سکیں۔”
انہوں نے کہا کہ حکومت الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے 2.3 ارب پاؤنڈ سے زائد سرمایہ کاری بھی کر رہی ہے۔
EV انڈسٹری سے وابستہ کمپنیوں نے اس فیصلے کو “اہم پیش رفت” قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق نئے قوانین کے بعد EV چارجرز کی تنصیب پہلے سے زیادہ تیز اور سستی ہو جائے گی جبکہ کاروباری اداروں کو بھی فائدہ ہوگا۔
تاہم بعض ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دیہی علاقوں اور آف اسٹریٹ پارکنگ نہ رکھنے والے علاقوں میں بجلی کے گرڈ کنکشن کا مسئلہ اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
