(تکبیر نیوز—- برطانیہ) برطانیہ میں ایک معمولی اسپیڈنگ جرم بھی نوجوان ڈرائیورز کیلئے سینکڑوں پاؤنڈز کے اضافی اخراجات کا باعث بن سکتا ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق پہلی مرتبہ اسپیڈنگ جرم کرنے والے نوجوان ڈرائیورز کو مجموعی طور پر £645 یا اس سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی نیا ڈرائیور ٹیسٹ پاس کرنے کے دو سال کے اندر 6 یا اس سے زیادہ پینلٹی پوائنٹس حاصل کر لیتا ہے تو اس کا لائسنس منسوخ ہو سکتا ہے۔
حکومتی قوانین کے مطابق ایک اسپیڈنگ جرم پر بھی بعض صورتوں میں 6 پوائنٹس مل سکتے ہیں جس سے نئے ڈرائیور کا لائسنس پہلی ہی غلطی پر منسوخ ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
لائسنس منسوخ ہونے کے بعد ڈرائیور کو دوبارہ پروویژنل لائسنس، تھیوری ٹیسٹ اور ڈرائیونگ ٹیسٹ دینا پڑتا ہے۔
تحقیق کے مطابق فوری اخراجات میں شامل ہیں:
- £100 اسپیڈنگ جرمانہ
- £34 تا £43 نیا پروویژنل لائسنس
- £23 تھیوری ٹیسٹ
- £62 تا £75 عملی ڈرائیونگ ٹیسٹ
اس کے علاوہ انشورنس پریمیم میں بھی نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ایک نئے ڈرائیور کی سالانہ اوسط انشورنس £1450 ہوتی ہے، لیکن اسپیڈنگ جرم کے بعد یہ بڑھ کر تقریباً £1543 تک پہنچ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف تین پوائنٹس بھی نوجوان ڈرائیور کی انشورنس میں تقریباً 38 فیصد اضافہ کر دیتے ہیں۔
موٹرنگ ماہر اسٹیو ریمزی نے کہا:
“زیادہ تر نوجوان ڈرائیورز کو اندازہ ہی نہیں ہوتا کہ ایک لمحے کی غلطی انہیں کتنی مہنگی پڑ سکتی ہے۔”
انہوں نے مشورہ دیا کہ معمولی اسپیڈنگ پر ممکن ہو تو اسپیڈ اویئرنیس کورس کا انتخاب کیا جائے تاکہ پوائنٹس اور اضافی انشورنس اخراجات سے بچا جا سکے۔
