(تکبیر نیوز—- برطانیہ، لندن) برطانیہ میں نیٹ مائیگریشن میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس کے بعد وزیرِ اعظم Keir Starmer نے کہا ہے کہ حکومت سرحدوں پر کنٹرول بحال کرنے کے اپنے وعدے پر عمل کر رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق برطانیہ میں نیٹ مائیگریشن 82 فیصد کم ہو کر 171 ہزار رہ گئی ہے جبکہ اس سے قبل یہ تعداد 9 لاکھ 44 ہزار تک پہنچ گئی تھی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے بیان میں کیئر اسٹارمر نے کہا:
“میں نے سرحدوں پر کنٹرول بحال کرنے کا وعدہ کیا تھا، میری حکومت اس پر عمل کر رہی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اب “اسکل بیسڈ مائیگریشن سسٹم” متعارف کرا رہی ہے جو مہارت رکھنے والے افراد کو ترجیح دے گا اور سستے غیر ملکی ورکرز پر انحصار کم کرے گا۔
ادھر برمنگھم سے تعلق رکھنے والی ہوم سیکریٹری Shabana Mahmood نے بھی مائیگریشن میں کمی کو حکومت کی کامیابی قرار دیا۔
انہوں نے کہا:
“یہ حکومت سرحدوں پر نظم و ضبط اور کنٹرول بحال کر رہی ہے۔”
آفس فار نیشنل اسٹیٹسٹکس (ONS) کی ڈپٹی ڈائریکٹر سارہ کرافٹس کے مطابق نیٹ مائیگریشن میں کمی کی بڑی وجہ یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے کام کیلئے آنے والوں کی تعداد میں کمی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پناہ گزینوں کی درخواستوں میں بھی 12 فیصد کمی دیکھی گئی ہے۔
اپریل 2025 سے مارچ 2026 کے دوران برطانیہ میں 93 ہزار 525 افراد نے پناہ کی درخواست دی جبکہ اس سے قبل یہ تعداد کہیں زیادہ تھی۔
اسی دوران اسائلم درخواستوں کے منتظر افراد کیلئے ہوٹلوں میں رہائش لینے والوں کی تعداد بھی کم ہو کر 20 ہزار 885 رہ گئی ہے۔
