تکبیر نیوز (لندن): یونیورسٹی کالج لندن کی ممتاز کینسر ماہر پروفیسر مریم جمال ہنجانی کو Cancer Research UK کی نئی چیف کلینیشن مقرر کر دیا گیا ہے، جہاں وہ کینسر کی روک تھام، تشخیص اور علاج سے متعلق کلینیکل تحقیق کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
پروفیسر مریم جمال ہنجانی UCL Cancer Institute سے وابستہ ہیں اور کینسر جینومکس، میٹاسٹیسس اور پھیپھڑوں کے کینسر کے علاج و تحقیق میں بین الاقوامی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہیں۔
انہوں نے 6 اکتوبر سے اپنی نئی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں اور وہ پروفیسر چارلس سوانٹن کی جگہ لے رہی ہیں، جو 2017 سے اس عہدے پر فائز تھے۔
نئی ذمہ داریوں میں کیا شامل ہوگا؟
نئی ذمہ داری کے تحت پروفیسر جمال ہنجانی Cancer Research UK کی کلینیکل تحقیق کی مجموعی سمت طے کرنے میں مدد کریں گی اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گی کہ تحقیق ان سوالات اور مسائل پر مرکوز ہو جو مریضوں کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں۔
وہ کلینیکل تحقیق سے وابستہ کیریئرز کی حوصلہ افزائی کریں گی اور برطانیہ سمیت بین الاقوامی تحقیقاتی برادری میں ادارے کی نمائندگی بھی کریں گی۔
پروفیسر جمال ہنجانی نے اپنی تقرری پر کہا کہ Cancer Research UK نے سائنسی دریافتوں کو مریضوں کے حقیقی فائدے میں تبدیل کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ہے اور اس مشن کی سمت متعین کرنے میں حصہ لینا ان کے لیے اعزاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ NHS برطانیہ کا ایک بڑا اثاثہ ہے، جو تحقیق کو مریضوں تک اس پیمانے پر پہنچا سکتا ہے جو دنیا کے بہت کم ممالک میں ممکن ہے۔
کینسر کے بدلتے رویے پر اہم تحقیق
پروفیسر جمال ہنجانی کی تحقیق اس بات پر مرکوز ہے کہ کینسر وقت کے ساتھ کیسے بدلتا ہے، علاج کے بعد دوبارہ کیوں واپس آتا ہے اور دواؤں کے خلاف مزاحمت کیسے پیدا کرتا ہے۔
انہوں نے TRACERx نامی عالمی سطح کے بڑے تحقیقی منصوبے میں اہم کردار ادا کیا، جو پھیپھڑوں کے کینسر کے ارتقا کو سمجھنے کے لیے دنیا کے سب سے جامع مطالعات میں شمار ہوتا ہے۔
اس تحقیق کے ذریعے مختلف حصوں سے ٹیومر کے نمونے لے کر اور مریضوں کو تشخیص کے وقت سے فالو کرکے یہ سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ انفرادی کینسر کیسے بڑھتا اور تبدیل ہوتا ہے، تاکہ علاج کو زیادہ مؤثر اور مریض کے مطابق بنایا جا سکے۔
PEACE اسٹڈی میں بھی قیادت
پروفیسر جمال ہنجانی نے PEACE study کی بھی قیادت کی ہے، جس نے اس بات کو سمجھنے میں مدد دی کہ کینسر جسم میں کیسے پھیلتا ہے اور علاج کے خلاف مزاحمت کیسے پیدا کرتا ہے۔
ان کی تحقیق کو متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات بھی مل چکے ہیں، جن میں Sylvia Lawler Scientific Prize، McElwain Prize، Sir David Cooksey Prize in Translation اور Cancer Research UK کا Translational Cancer Research Prize شامل ہیں۔
حال ہی میں وہ ایک بین الاقوامی تحقیقی ٹیم کا حصہ بھی تھیں جسے کینسر کے ارتقا پر تحقیق کے لیے تقریباً 12 ملین یورو کی گرانٹ دی گئی۔
Cancer Research UK کا خیرمقدم
Cancer Research UK کی چیف ایگزیکٹو مشیل مچل نے پروفیسر جمال ہنجانی کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ کینسر کے بڑھنے، پھیلنے، علاج کے خلاف مزاحمت اور دوبارہ واپس آنے کے عمل پر اہم تحقیق کی قیادت کر چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور نئی ٹیکنالوجیز کے باعث کینسر تحقیق کے شعبے میں نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور پروفیسر جمال ہنجانی اس اہم مرحلے پر ادارے کی کلینیکل تحقیق کو آگے لے جانے کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔
سابق چیف کلینیشن پروفیسر چارلس سوانٹن نے بھی ان کی تقرری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک تجربہ کار میڈیکل آنکولوجسٹ اور فزیشن سائنٹسٹ ہیں، جو NHS، یونیورسٹیوں اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان تعاون کے امکانات کو بخوبی سمجھتی ہیں۔
