تکبیر نیوز (لندن): مغربی لندن کے علاقے ہنسلو میں واقع Hounslow Jamia Masjid and Islamic Centre کا غیر ملکی کارکنوں کو اسپانسر کرنے کا لائسنس ہوم آفس کی فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے، جبکہ مسجد انتظامیہ ویزا اسپانسرشپ سے متعلق الزامات کی تردید کرتے ہوئے فیصلے کو چیلنج کر رہی ہے۔ موجودہ اسپانسر رجسٹر ٹریکنگ ریکارڈز بھی مسجد کا لائسنس تازہ فہرست میں موجود نہ ہونے کی نشاندہی کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کارروائی ان الزامات کے بعد سامنے آئی کہ مسجد کی جانب سے مذہبی کارکنوں کے طور پر اسپانسر کیے گئے بعض افراد حقیقت میں مسجد میں وہ کام نہیں کر رہے تھے جس کی بنیاد پر انہیں اسپانسر کیا گیا تھا۔ ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض اسپانسر شدہ افراد بعد میں دوسرے کاروباروں یا اداروں میں کام کرتے پائے گئے۔ مسجد نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
سابق ٹرسٹی کے الزامات
مسجد کے سابق ٹرسٹی عبدالمجید کی جانب سے بھی انتظامیہ پر متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض افراد کو مبینہ طور پر مسجد کے پے رول پر ظاہر کیا گیا تاکہ ان کی ویزا درخواستوں میں مدد مل سکے، حالانکہ وہ حقیقت میں مسجد میں کام نہیں کر رہے تھے۔ یہ الزامات تاحال ثابت شدہ عدالتی حقائق نہیں ہیں اور مسجد انتظامیہ نے کسی بھی غلط کاری سے انکار کیا ہے۔
چیریٹی کمیشن کی الگ تحقیقات
اس معاملے سے الگ، چیریٹی کمیشن پہلے ہی Hounslow Jamia Masjid and Islamic Centre کے انتظامی اور مالی معاملات کے بارے میں ایک ریگولیٹری کمپلائنس کیس کھول چکا ہے۔
کمیشن نے تصدیق کی تھی کہ وہ مسجد کی گورننس سے متعلق خدشات کا جائزہ لے رہا ہے، جبکہ رپورٹس میں £1 ملین سے زائد کے مبینہ مالی غلط استعمال کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
مسجد کی اپنی چیریٹی رجسٹری تفصیلات کے مطابق یہ ایک رجسٹرڈ چیریٹی ہے اور اس کا بنیادی مقصد مذہبی اور کمیونٹی خدمات فراہم کرنا ہے۔
مسجد انتظامیہ کی تردید
مسجد کے جنرل سیکریٹری کی جانب سے پہلے جاری کیے گئے مؤقف میں تمام مالی اور انتظامی بے ضابطگیوں کے الزامات کی تردید کی گئی تھی۔
انتظامیہ کا کہنا تھا کہ مسجد کے خلاف بعض افراد کی جانب سے منظم مہم چلائی جا رہی ہے اور ٹرسٹ متعلقہ ریگولیٹری، مقامی حکومتی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کر رہا ہے۔
ہنسلو کونسل بھی معاملے سے آگاہ
ہنسلو کونسل نے بھی مسجد اور مقامی کمیونٹی سے متعلق بعض شکایات اور کشیدگی کے معاملات پر کارروائی اور تحقیقات کا ذکر کیا ہے، جبکہ چیریٹی کمیشن کی کارروائی الگ سے جاری ہے۔
اس مرحلے پر ضروری ہے کہ ویزا یا مالی بے ضابطگیوں سے متعلق تمام دعوؤں کو الزامات ہی سمجھا جائے جب تک متعلقہ ادارے اپنی تحقیقات مکمل کرکے کوئی حتمی فیصلہ جاری نہ کریں۔
