تکبیر نیوز (برسٹل): برطانیہ کے شہر برسٹل میں 17 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر اسنیپ چیٹ کے ذریعے اپنے جال میں پھنسانے کے بعد اس سے زیادتی کرنے والے تین افغان شہریوں سمیت چار افراد کو عدالت نے قید کی سزائیں سنا دی ہیں۔
برسٹل کراؤن کورٹ کو بتایا گیا کہ 21 سالہ مہرب صافی، 19 سالہ اول احمدزئی اور 19 سالہ سلمان حبیب خیل کو 26 جون کو لڑکی کے خلاف متعدد جنسی جرائم میں مجرم قرار دیا گیا تھا۔
ایک 17 سالہ افغان لڑکے کو بھی ریپ کا مجرم قرار دیا گیا، تاہم قانونی وجوہات کے باعث اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی۔
عدالت نے مہرب صافی کو 15 سال قید کی سزا سنائی، جبکہ سلمان حبیب خیل اور اول احمدزئی کو نو، نو سال یوتھ ڈیٹینشن میں رکھنے کا حکم دیا گیا۔
17 سالہ لڑکے کو دو سال سات ماہ یوتھ ڈیٹینشن کی سزا سنائی گئی۔
اسنیپ چیٹ پر رابطہ کیسے شروع ہوا؟
عدالت کو بتایا گیا کہ متاثرہ لڑکی، جو سمرسیٹ سے تعلق رکھتی تھی، نومبر 2025 میں کرسمس شاپنگ کے لیے برسٹل آئی تھی، جہاں اس کی ملاقات مہرب صافی سے ہوئی۔
بعد ازاں دونوں نے فون نمبر اور اسنیپ چیٹ رابطے کا تبادلہ کیا۔
پولیس کے مطابق چند ہی دنوں میں رابطہ بڑھ گیا اور صافی نے لڑکی کو اپنے گھر آنے کے لیے آمادہ کیا۔
استغاثہ کے مطابق صافی نے اس کے لیے ٹیکسی کا انتظام کیا، جو اسے سمرسیٹ سے برسٹل کے علاقے سینٹ وربرگس میں واقع مکان تک لے گئی۔
شراب پلانے کے بعد حملہ
ایون اینڈ سمرسیٹ پولیس کے مطابق گھر پہنچنے کے بعد لڑکی کو شراب پلائی گئی، جس کے بعد کئی گھنٹوں کے دوران اسے جنسی حملے اور زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
متاثرہ لڑکی کی والدہ نے اس کے لاپتا ہونے کی اطلاع پولیس کو دی، جس کے بعد افسران گھر پہنچے اور اسے وہاں سے برآمد کیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ واقعے کے بعد متاثرہ لڑکی شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوگئی اور اس نے گھر سے نکلنا تقریباً چھوڑ دیا۔
تین ملزمان نے برطانیہ سے فرار کی کوشش کی
پولیس کے مطابق 17 سالہ لڑکے کو جائے وقوعہ سے گرفتار کر لیا گیا، جبکہ تین بالغ ملزمان وہاں سے فرار ہوگئے۔
وہ پہلے برمنگھم اور لندن گئے اور پھر ایک ٹرک کے پچھلے حصے میں چھپ کر برطانیہ سے نکلنے کی کوشش کی۔
فرانسیسی پولیس نے انہیں کالے میں پکڑ لیا، جس کے بعد انہیں واپس برطانیہ لایا گیا اور ریپ کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا۔
پولیس کے مطابق صافی کے موبائل فون سے ایسی ویڈیو بھی ملی جس میں ملزمان ٹرک کے اندر موجود تھے۔
جج نے متاثرہ لڑکی کے صدمے کو “ناقابلِ تصور” قرار دیا
سزا سناتے ہوئے جج مائیکل کلم نے کہا کہ متاثرہ لڑکی شروع ہی سے غیر محفوظ نظر آتی تھی اور اس صورتحال کا فائدہ اٹھایا گیا۔
جج نے کہا کہ اس کے ساتھ ہونے والے واقعات نے اس کی زندگی پر ایسا گہرا اثر ڈالا ہے جس کا صدمہ ممکنہ طور پر طویل عرصے تک اس کے ساتھ رہے گا۔
عدالت نے ملزمان کے افغانستان میں گزارے گئے مشکل حالات کو بھی مدنظر رکھا، تاہم جج نے واضح کیا کہ یہ کسی صورت ان جرائم کا جواز نہیں بن سکتے۔
چاروں کو غیر معینہ مدت کے لیے سیکس آفینڈر رجسٹر میں شامل کرنے اور بچوں سے رابطے پر پابندی سے متعلق Sexual Harm Prevention Order بھی دیا گیا۔
