تکبیر نیوز (نورفوک): برطانیہ کے علاقے نورفوک میں 45 سالہ خاتون جنرل پریکٹیشنر ڈاکٹر ہنّا ٹیری، جو ہنّا کین کے نام سے بھی جانی جاتی تھیں، کی گھر سے لاش ملنے کے بعد 45 سالہ مارک کین پر قتل کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔
نورفوک پولیس کے مطابق ڈاکٹر ٹیری کی لاش اتوار کے روز ڈرسنگھم کے علاقے فرن ہِل میں واقع ایک گھر سے ملی تھی۔
پولیس نے واقعے کے بعد ایک شخص کو گرفتار کیا، جسے بعد ازاں قتل کے الزام میں چارج کر دیا گیا۔
مارک کین، جو فرن ہِل، ڈرسنگھم ہی کا رہائشی ہے، کو حراست میں رکھا گیا ہے اور اسے بدھ کے روز عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
مقامی میڈیکل سینٹر عارضی طور پر بند
ڈاکٹر ہنّا ٹیری گرمسٹن میڈیکل سینٹر میں پریکٹس ٹیم کا حصہ تھیں۔
میڈیکل سینٹر کی ویب سائٹ پر جاری ایک نوٹس میں کہا گیا کہ ادارہ اپنی ٹیم کو درپیش انتہائی مشکل حالات کے باعث عارضی طور پر بند ہے۔
مرکز کے باہر مریضوں اور مقامی افراد کی جانب سے پھول اور تعزیتی پیغامات بھی رکھے گئے ہیں۔
دو مریضوں کی جانب سے چھوڑے گئے ایک کارڈ میں ڈاکٹر ہنّا ٹیری کی موت پر شدید صدمے اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔
میڈیکل کمیونٹی کا خراجِ عقیدت
نورفوک اینڈ ویوینی لوکل میڈیکل کمیٹی، جو این ایچ ایس جنرل پریکٹیشنرز کی نمائندگی کرتی ہے، نے بھی ڈاکٹر ٹیری کو خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
کمیٹی کے ترجمان نے کہا کہ ڈاکٹر ٹیری ایک بہترین جی پی تھیں جو اپنے مریضوں کو اعلیٰ معیار کی طبی سہولت فراہم کرنے کے لیے وقف تھیں۔
کراؤن پراسیکیوشن سروس کا مؤقف
کراؤن پراسیکیوشن سروس کے مائیکل ڈیوانی نے کہا کہ پولیس تحقیقات کے بعد مارک کین کے خلاف ہنّا کین کے قتل کا مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی پی ایس نے نورفوک پولیس کے ساتھ تحقیقات کے دوران قریبی تعاون کیا، جبکہ ادارے کی ہمدردیاں متاثرہ خاندان کے ساتھ ہیں۔
مارک کین کو بدھ کے روز ناروچ مجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا جائے گا۔
