تکبیر نیوز (لندن): اردن کی شہزادی فریال ارشید نے عدالت کو بتایا ہے کہ انہیں اپنی چوری شدہ قیمتی جیولری، جس میں ان کا منفرد منگنی کا چھلا بھی شامل تھا، اس وقت ملی جب وہ کینٹ کے ایک نیلام گھر کی کیٹلاگ میں فروخت کے لیے درج دیکھی گئی۔
81 سالہ شہزادی فریال نے ساؤتھ وارک کراؤن کورٹ میں جیوری کو بتایا کہ وہ 2020 میں کورونا وبا کے دوران برطانیہ چھوڑ کر اردن چلی گئی تھیں، جبکہ اسی دوران ان کے بیلگراویا واقع گھر سے قیمتی زیورات مبینہ طور پر چوری ہوگئے۔
ان کی سابقہ ہاؤس کیپر ماریا ورجلینا تبوردا ہیناؤ، عمر 71 سال، پر الزام ہے کہ اس نے گھر تک اپنی رسائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے زیورات چرائے۔ وہ اس الزام سے انکار کر رہی ہیں۔
منگنی کا منفرد چھلا کیٹلاگ کے سرورق پر
شہزادی فریال نے عدالت کو بتایا کہ 21 نومبر 2020 کو ان کے ایک دوست پیئر ژانے نے انہیں فون کیا، جو اعلیٰ درجے کے جیولری برانڈ JAR سے وابستہ ہیں اور جنہوں نے ان کا منگنی کا چھلا تیار کیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ دوست نے ان سے پوچھا کہ آیا وہ اپنی جیولری فروخت کر رہی ہیں۔ جواب میں شہزادی نے کہا کہ نہیں۔
اس پر دوست نے بتایا کہ ان کا خاص منگنی کا چھلا ایک نیلام گھر کی کیٹلاگ کے سرورق پر موجود ہے۔
شہزادی کے مطابق یہ چھلا خاص طور پر ان کی منگنی کے لیے بنایا گیا تھا اور دنیا میں اس جیسا دوسرا نہیں۔
پرانی نیلامیوں میں بھی زیورات ملنے کا دعویٰ
عدالت کو بتایا گیا کہ شہزادی نے بعد ازاں Canterbury Auction Galleries کی پرانی نیلامیوں کے کیٹلاگ حاصل کیے، جن میں مارچ، مئی اور اگست 2020 کی فروخت شامل تھیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی مزید قیمتی اشیا بھی پہلے فروخت کی جا چکی تھیں۔
شہزادی نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اپنی ملکیت ثابت کرنے کے لیے رسیدیں، پرانی تصاویر، کیٹلاگ کی تصاویر اور وہ تصاویر پیش کیں جن میں وہ چوری شدہ زیورات پہنے ہوئے دکھائی دیتی تھیں۔
گھر میں زیورات کھلے رکھے جاتے تھے
شہزادی فریال نے عدالت کو بتایا کہ وہ عرصہ دراز سے جیولری جمع کرتی آئی ہیں اور ان کے گھر میں زیورات اکثر کھلی جگہوں اور الماریوں میں رکھے ہوتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ زیورات کو چھپا کر رکھنے کی عادی نہیں تھیں اور گھر کے اندر کام کرنے والے افراد کو ان تک رسائی حاصل ہو سکتی تھی۔
وبا کے دوران برطانیہ سے روانگی
شہزادی نے بتایا کہ مارچ 2020 میں کورونا وبا کے آغاز پر انہیں اپنے بیٹے کا فون آیا اور انہیں صرف چند گھنٹوں میں سامان پیک کرکے اردن روانہ ہونا پڑا کیونکہ پروازیں بند ہونے والی تھیں۔
اس وقت ان کی ہاؤس کیپر تبوردا ہیناؤ گھر میں موجود عملے میں سے واحد شخص تھیں جو وہیں رہ گئی تھیں۔
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ شہزادی نے وبا کے ابتدائی دنوں میں ہاؤس کیپر کی بہن کو بھی گھر میں رہنے کی اجازت دی تھی۔
پولیس کو گھر سے مزید زیورات ملنے کا دعویٰ
استغاثہ کے مطابق تبوردا ہیناؤ کے فُلہم واقع گھر کی تلاشی کے دوران پولیس کو شہزادی کی شادی کی انگوٹھی، بالیوں کا ایک جوڑا اور جواہرات سے سجا دھاتی ہار ملا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ تبوردا ہیناؤ کے بھانجے جولیان رامیریز پر چوری شدہ سامان کی فروخت میں اہم کردار ادا کرنے کا الزام ہے اور وہ 2023 میں پولیس ضمانت کے دوران کولمبیا چلا گیا تھا۔
استغاثہ کے مطابق رامیریز نے جون 2019 سے نومبر 2020 کے درمیان تبوردا ہیناؤ کو £17,835 منتقل کیے۔
ماریا تبوردا ہیناؤ نے ملازمہ کی حیثیت سے چوری کے الزام سے انکار کیا ہے۔
مقدمے کی سماعت جاری ہے۔
