تکبیر نیوز (اسٹوک آن ٹرینٹ): برطانیہ کے شہر اسٹوک آن ٹرینٹ میں ایک گھر پر ہولناک حملے کے دوران پیٹرول چھڑک کر آگ لگانے سے ایک خاتون کے جسم کا 65 فیصد حصہ جھلس گیا، جبکہ ایک 13 سالہ بچی بھی شدید زخمی ہوئی۔ مقدمے میں ملوث افراد کو مجموعی طور پر 130 سال سے زائد قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
یہ واقعہ 16 دسمبر 2021 کو پیش آیا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اسی روز کِلڈیئر اسٹریٹ، لانگٹن میں نوید حسین، بلال احمد، کاشف احمد اور علی عباس کے درمیان جھگڑا ہوا، جس میں کاشف احمد کے کندھے پر چاقو کا زخم آیا اور اسے اسپتال جانا پڑا۔
اسی رات تقریباً 10 بج کر 55 منٹ پر افراد کا ایک گروپ اسٹوک آن ٹرینٹ کے علاقے بینٹیلی میں بیورلی ڈرائیو پر واقع ایک گھر پہنچا اور نوید حسین سے بات کرنے کا مطالبہ کیا۔
کھڑکیاں توڑ کر گھر میں پیٹرول چھڑکا
عدالت کو بتایا گیا کہ حملہ آوروں نے گھر کی نچلی منزل کی کھڑکیاں توڑ دیں اور داخلی حصے سمیت رہائشی کمرے کی کھڑکی کے باہر پیٹرول چھڑک دیا۔
گھر میں موجود 31 سالہ خاتون کے سر پر وار کیا گیا اور انہیں آگ لگا دی گئی۔
خاتون کے جسم کا تقریباً 65 فیصد حصہ جھلس گیا اور ڈاکٹروں کو ابتدا میں ان کے زندہ بچنے کی توقع نہیں تھی۔
تاہم وہ دو ماہ تک کومے میں رہنے کے بعد زندہ بچ گئیں اور اب بھی انہیں زندگی بھر طبی علاج اور دیکھ بھال کی ضرورت رہے گی۔
13 سالہ بچی بھی جھلس گئی
واقعے کے دوران گھر میں موجود 13 سالہ بچی کا دایاں بازو بھی تقریباً 15 فیصد جھلس گیا۔
آگ سے جان بچانے کیلئے خاتون اور بچی نے بالائی منزل کی کھڑکی توڑی اور بیڈروم سے باہر چھلانگ لگا دی۔
اس دوران خاتون کی کولہے کی ہڈی اور پسلیاں ٹوٹ گئیں جبکہ جگر بھی زخمی ہوا۔ انہیں بعد میں دوبارہ چلنا سیکھنا پڑا۔
دونوں متاثرین کو خصوصی علاج کیلئے برمنگھم کے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا تھا۔
تین افراد اقدامِ قتل میں سزا یافتہ
مقدمے میں شکیل الدین، علی عباس اور حارث محمود کو اقدامِ قتل سے متعلق جرائم میں طویل قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
اولڈہم کے 23 سالہ شکیل الدین کو اقدامِ قتل اور جان کو خطرے میں ڈالنے کی نیت سے آتش زنی کا مجرم قرار دیتے ہوئے 34 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
اسٹوک آن ٹرینٹ کے علاقے نارماکوٹ کے 23 سالہ علی عباس نے اقدامِ قتل کے دو الزامات اور جان کو خطرے میں ڈالنے کی نیت سے آتش زنی کا جرم قبول کیا، جس پر اسے 25 سال قید سنائی گئی۔
نارماکوٹ کے حارث محمود کو بھی اقدامِ قتل کے دو الزامات اور آتش زنی کا جرم قبول کرنے پر 24 سال اور 9 ماہ قید کی سزا دی گئی۔
دیگر ملزمان کو بھی طویل سزائیں
ریاض اقبال اور لقمان خان، دونوں کو شدید جسمانی نقصان پہنچانے اور جان کو خطرے میں ڈالنے کی نیت سے آتش زنی کے جرائم میں ساڑھے 12، ساڑھے 12 سال قید سنائی گئی۔
اولڈہم کے محمد سفیان شاہ کو شدید جسمانی نقصان پہنچانے کے جرم میں ساڑھے 11 سال جبکہ لانگٹن کے طیب مجید کو ساڑھے 10 سال قید کی سزا دی گئی۔
کاشف احمد کو پرتشدد ہنگامہ آرائی کا جرم قبول کرنے پر 48 ہفتے قید کی سزا سنائی گئی۔
نوید حسین کو پرتشدد ہنگامہ آرائی اور عوامی مقام پر چاقو یا تیز دھار آلہ رکھنے کا جرم قبول کرنے پر 6 ماہ قید سنائی گئی، تاہم یہ سزا 18 ماہ کیلئے معطل کردی گئی۔
بلال احمد کو پرتشدد ہنگامہ آرائی کا جرم قبول کرنے پر 15 ماہ قید سنائی گئی، جسے بھی 18 ماہ کیلئے معطل کردیا گیا۔
یہ سزائیں ناٹنگھم کراؤن کورٹ میں 11 ہفتوں تک جاری رہنے والے مقدمے اور مقدمے سے پہلے بعض ملزمان کی جانب سے جرم قبول کیے جانے کے بعد سنائی گئیں۔
’تشدد کی شدت انتہائی ہولناک تھی‘
اسٹافورڈ شائر پولیس کے میجر انویسٹی گیشنز ڈیپارٹمنٹ کے ڈیٹیکٹو کانسٹیبل ہاورڈ ڈیوس نے کہا کہ یہ ایک طویل اور پیچیدہ تحقیقات تھیں جن کا تعلق انتہائی سنگین اور پرتشدد واقعات سے تھا۔
ان کے مطابق اس رات دکھائی جانے والی تشدد کی شدت انتہائی ہولناک تھی اور اس کا اختتام ایک ایسے دانستہ اقدام پر ہوا جس نے متعدد افراد کی جان شدید خطرے میں ڈال دی۔
انہوں نے کہا کہ سی سی ٹی وی، ڈیجیٹل شواہد اور خصوصی فرانزک تحقیقات کی مدد سے پولیس ہر شخص کے کردار سے متعلق شواہد عدالت کے سامنے پیش کرنے میں کامیاب ہوئی۔
پولیس نے متاثرہ خاتون اور دیگر متاثرین کی ہمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی اس حملے کے جسمانی اور ذہنی اثرات سے نمٹ رہے ہیں۔
