تکبیر نیوز (بریڈفورڈ): بریڈفورڈ کی 26 سالہ خاتون حمیرہ بتول کو کرائے کی لیمبورگینی میں خوفناک حادثے کے دوران اپنے دوست 20 سالہ محمد شان حسین کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دے دیا گیا۔ جیوری نے انہیں خطرناک ڈرائیونگ کے ذریعے موت کا سبب بننے کے جرم میں مجرم قرار دیا ہے۔
حمیرہ بتول، جو بینک فٹ کے اسمڈلز لین کی رہائشی ہیں، 21 دسمبر 2022 کی علی الصبح کرائے کی لیمبورگینی یوروس چلا رہی تھیں جب یہ گاڑی M62 پر ریپنڈن، کالڈرڈیل کے قریب ایک رکاوٹ سے ٹکرا گئی۔
حادثے سے کچھ دیر قبل لیمبورگینی کی رفتار 143 میل فی گھنٹہ تک پہنچ گئی تھی، جو مقررہ رفتار کی حد سے دگنی سے بھی زیادہ تھی۔ ٹکر کے بعد سپر کار الٹ گئی اور اس میں آگ بھڑک اٹھی۔
حادثے میں حمیرہ بتول کے دوست محمد شان حسین جاں بحق ہوگئے، جن کا تعلق بریڈفورڈ سے تھا اور اس وقت ان کی عمر 20 سال تھی۔
عدالت میں مقدمے کی سماعت کے دوران حمیرہ بتول نے ابتدا میں پولیس کو بتایا تھا کہ وہ گاڑی کی مسافر نشست پر سو رہی تھیں اور گاڑی کے الٹنے پر ان کی آنکھ کھلی۔
تاہم جیوری کو دکھائی گئی ویڈیو میں دیکھا گیا کہ بریڈفورڈ میں ٹریفک سگنل پر حمیرہ بتول مسافر نشست سے باہر نکلیں، گاڑی کے گرد گھومیں اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ویڈیو سامنے آنے تک حمیرہ بتول نے ڈرائیور تبدیل ہونے کے بارے میں پولیس کو کچھ نہیں بتایا تھا۔ بعد ازاں انہوں نے تسلیم کیا کہ حادثے کے وقت گاڑی وہی چلا رہی تھیں، تاہم انہوں نے اپنی بے گناہی کے لیے ایک مختلف مؤقف پیش کیا۔
حمیرہ بتول نے عدالت میں دعویٰ کیا کہ محمد شان حسین نے گاڑی کے اندر موجود کنٹرولز کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی، جس کے باعث لیمبورگینی اچانک بار بار رفتار پکڑنے لگی۔
انہوں نے جیوری کو بتایا کہ محمد شان حسین نے حادثے سے چند لمحے قبل گاڑی کے کنٹرولز کی جانب ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا تھا کہ ’’یہ دیکھو‘‘، جس کے بعد گاڑی نے مبینہ طور پر اچانک ’’بوسٹ‘‘ کیا اور وہ گھبرا کر گاڑی پر قابو نہ رکھ سکیں۔
تاہم مقدمے میں پیش کیے گئے ایک لیمبورگینی ماہر نے عدالت کو بتایا کہ گاڑی میں ایسا کوئی بٹن، لیور یا کنٹرول موجود نہیں تھا جو اس طرح اچانک رفتار بڑھانے کا سبب بن سکتا ہو۔
پراسیکیوٹر کرسٹوفر ڈن نے جیوری سے کہا کہ حمیرہ بتول کی ڈرائیونگ ایک ذمہ دار اور محتاط ڈرائیور سے متوقع معیار سے کہیں نیچے تھی۔
پراسیکیوٹر نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ حمیرہ بتول نے خطرناک حد تک تیز رفتاری کی ذمہ داری اس شخص پر ڈالنے کی کوشش کی جو خود حادثے میں جاں بحق ہوگیا تھا۔
دفاعی وکیل رچرڈ ڈاسن نے مؤقف اختیار کیا کہ حادثہ ایک حقیقی حادثہ بھی ہوسکتا ہے اور ضروری نہیں کہ اس کے لیے کوئی شخص مجرمانہ طور پر ذمہ دار ہو۔
انہوں نے کہا کہ صرف تیز رفتاری کی بنیاد پر یہ لازمی نہیں کہ گاڑی اچانک سڑک سے اتر کر الٹ جائے، جبکہ استغاثہ یہ واضح نہیں کرسکا کہ گاڑی اصل میں سڑک سے کیوں اور کیسے نکلی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ محمد شان حسین نے یہ لیمبورگینی ایک دوست کو HMP Leeds سے لینے کے لیے کرائے پر حاصل کی تھی اور تقریباً صبح 4 بجے حمیرہ بتول کو ان کے بریڈفورڈ کے گھر سے لیا تھا۔
ابتدا میں محمد شان حسین گاڑی چلا رہے تھے، تاہم بعد میں دونوں نے نشستیں تبدیل کرلی تھیں۔
حادثے کے فوراً بعد وہاں سے گزرنے والے ڈرائیوروں نے لیمبورگینی کو رکا ہوا دیکھ کر گاڑی روک دی اور محمد شان حسین کو بچانے کی کوشش کی، لیکن آگ اور دھماکے کے باعث امدادی کارروائی انتہائی مشکل ہوگئی۔
بعد ازاں حمیرہ بتول موٹروے کے قریب گھاس کے کنارے سے دوسرے گواہوں کو ملیں۔
ویسٹ یارکشائر پولیس کے ڈیٹیکٹو انسپکٹر پال کونروئے نے جیوری کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کا مؤقف ابتدا ہی سے یہی تھا کہ حمیرہ بتول اپنے اقدامات کی خود ذمہ دار تھیں اور انہوں نے انتہائی خطرناک انداز میں گاڑی چلائی۔
انہوں نے کہا کہ حمیرہ بتول نے گاڑی کو رفتار کی حد سے تقریباً دگنی رفتار تک پہنچانے کا فیصلہ کیا اور اب انہیں اپنے انتہائی خطرناک ڈرائیونگ کے عمل کا جواب دینا ہوگا۔
حمیرہ بتول کو 2 نومبر کو سزا سنائی جائے گی
