تکبیر نیوز (برمنگھم): برمنگھم کے علاقے ہاجلے میں گھر کے باہر چاقو کے وار سے 34 سالہ زیشان شوکت کے قتل کے کیس میں مزید تین افراد کو گرفتار کرلیا گیا، جس کے بعد واقعے کے سلسلے میں حراست میں لیے گئے افراد کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔
پولیس کے مطابق تازہ ترین کارروائی میں 20 اور 30 سال کی عمر کے تین افراد کو قتل کے شبے میں گرفتار کیا گیا اور انہیں رات بھر حراست میں رکھا گیا۔
34 سالہ زیشان شوکت پر 25 اگست کی رات تقریباً 11:30 بجے ایش وِل ایونیو، ہاجلے میں واقع اپنے گھر کے باہر حملہ کیا گیا تھا۔ چاقو کے وار سے شدید زخمی ہونے کے بعد انہیں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ تین روز بعد دم توڑ گئے۔
پولیس نے واقعے کے بعد علاقے میں گشت بڑھا دیا ہے تاکہ مقامی رہائشیوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے اور تفتیش میں پیش رفت کے ساتھ مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔
تحقیقات کی قیادت کرنے والے ڈیٹیکٹو انسپکٹر نائجل باکس نے کہا کہ تازہ گرفتاریاں تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت ہیں اور پولیس نے مقتول زیشان شوکت کے اہل خانہ کو بھی اس پیش رفت سے آگاہ کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 11 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے اور تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ گرفتار افراد کی تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
ڈیٹیکٹو انسپکٹر نائجل باکس کا کہنا تھا کہ اگرچہ پولیس تحقیقات میں اچھی پیش رفت کررہی ہے، تاہم ایسے تمام افراد کا سامنے آنا انتہائی اہم ہے جن کے پاس اس پُرتشدد حملے کے بارے میں کوئی معلومات موجود ہیں۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ واقعے سے متعلق کسی بھی معلومات کی صورت میں 101 پر رابطہ کرکے ریفرنس نمبر 20/376531/26 بتایا جائے۔
معلومات Crimestoppers کو بھی گمنام طور پر 0800 555 111 پر فراہم کی جاسکتی ہیں۔
