لندن: برطانیہ میں چاقو سے ہونے والے جرائم کی روک تھام کے لیے جاری مہم کے تحت گزشتہ ایک سال کے دوران 15 ہزار سے زائد خطرناک ہتھیار حکام کے حوالے کیے گئے ہیں، جسے متاثرہ خاندانوں اور حکومت نے ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
ہوم آفس کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2025 سے اب تک ملک بھر میں نصب سرنڈر بنز (Surrender Bins) میں 14,500 سے زائد چاقو، ننجا تلواریں، زومبی طرز کے چاقو اور مشیٹیز جمع کرائے گئے، جبکہ 783 مزید ہتھیار ایک موبائل سرنڈر وین کے ذریعے وصول کیے گئے۔
ان اعداد و شمار کا خیرمقدم ان والدین نے بھی کیا جنہوں نے اپنے بچوں کو چاقو حملوں میں کھو دیا تھا۔
پوجا کانڈا، جن کے 16 سالہ بیٹے رونن کانڈا کو 2022 میں وولورہیمپٹن میں غلط شناخت کے باعث ننجا تلوار سے قتل کر دیا گیا تھا، نے کہا کہ ہر جمع کرایا گیا چاقو ایک ممکنہ جان بچانے کے مترادف ہے۔
اسی طرح کیرولین ولگوز، جن کے 15 سالہ بیٹے ہاروی ولگوز کو گزشتہ سال شیفیلڈ کے ایک اسکول میں چاقو کے وار سے قتل کیا گیا تھا، نے کہا کہ حکومت کے اقدامات مستقبل میں بچوں کو محفوظ بنانے کی سمت اہم قدم ہیں۔
مارٹن کاسر، جن کے 17 سالہ بیٹے چارلی کاسر 2023 میں ویسٹ سسیکس میں ایک پارٹی کے دوران قتل ہوئے تھے، نے بھی اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ سڑکوں سے ہر ہتھیار کا ہٹایا جانا ممکنہ طور پر ایک جان بچانے کے برابر ہے۔
برطانیہ میں Word 4 Weapons اور FazAmnesty جیسی تنظیمیں ہوم آفس کے تعاون سے چاقو جمع کرنے کی مہم چلا رہی ہیں۔ اس وقت انگلینڈ بھر میں 37 سرنڈر بنز نصب ہیں جہاں شہری گمنام طور پر خطرناک ہتھیار جمع کرا سکتے ہیں۔
ادھر ساؤتھ پورٹ حملے میں زخمی ہونے والی لیان لوکاس نے بھی عوام سے اپیل کی کہ وہ نوک دار کچن چاقوؤں کی جگہ گول کناروں والے محفوظ چاقو استعمال کرنے پر غور کریں تاکہ گھریلو ماحول میں بھی حادثات اور تشدد کے امکانات کم کیے جا سکیں۔
حکومتی اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2024 میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے چاقو سے متعلق جرائم میں 11 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ مارچ 2026 تک کے سال میں 176 چاقو کے ذریعے قتل ریکارڈ ہوئے، جو 1991 کے بعد سب سے کم تعداد ہے۔
پولیسنگ اور کرائم منسٹر سارہ جونز نے کہا کہ ہر جمع کرایا گیا خطرناک ہتھیار عوامی تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم ہے اور حکومت مزید علاقوں میں یہ سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے گی۔
