المیریا، اسپین: اسپین کے صوبہ المیریا (Almería) میں لگنے والی ہولناک جنگلاتی آگ میں شدید زخمی ہونے والی برطانوی خاتون لیزا فرائیٹ (Lisa Fryett) زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئی ہیں، جبکہ ان کے ساتھی سائمن بیچلر (Simon Batchelor) اب بھی انتہائی تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں۔
دونوں کا تعلق برطانیہ کے علاقے ایسیکس سے تھا اور وہ 9 جولائی کو جنوبی اسپین کے لاس گیارڈوس (Los Gallardos) کے قریب تعطیلات گزار رہے تھے، جب اچانک بھڑکنے والی آگ نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
ریسکیو ٹیموں نے اگلے روز انہیں بیدار (Bédar) کے پہاڑی علاقے میں شدید جھلسی ہوئی حالت میں تلاش کیا۔ دونوں نے امدادی کارکنوں سے اپنے بچوں سے دوبارہ ملنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاہم کئی ہفتوں تک زندگی اور موت کی کشمکش کے بعد 28 جولائی کو لیزا فرائیٹ انتقال کر گئیں۔
لیزا کے بیٹے الفی نے اپنی والدہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی دنیا تھیں اور ان کی یادیں ہمیشہ ان کے ساتھ رہیں گی۔
خاندان کے مطابق لیزا کی جڑواں بہن، بچوں اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے اسپین پہنچ کر ان کے آخری ایام میں ان کا ساتھ دیا۔
فنڈ ریزنگ مہم
خاندان کی مدد کے لیے قائم کی گئی GoFundMe مہم کے ذریعے اب تک 65 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم جمع ہو چکی ہے۔ اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یہ رقم علاج، اسپین میں اخراجات اور لیزا کی آخری رسومات کے انتظامات کے لیے استعمال کی جائے گی، جبکہ سائمن کی حالت اب بھی انتہائی نازک ہے۔
اسپین کی مہلک ترین آگ میں شامل
المیریا کی یہ جنگلاتی آگ اسپین کی تاریخ کی تیسری مہلک ترین جنگلاتی آگ قرار دی جا رہی ہے، جس میں کم از کم 13 افراد جان کی بازی ہار گئے، 17 زخمی ہوئے جبکہ 1,300 سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں چار برطانوی شہری بھی شامل تھے، جو آگ سے بچنے کی کوشش کے دوران اپنی گاڑی میں جھلس کر جاں بحق ہوگئے، جبکہ ایک 93 سالہ برطانوی خاتون بھی بعد ازاں اسپتال میں دم توڑ گئی۔
حکام کے مطابق آگ لگنے کی حتمی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی، تاہم ابتدائی اطلاعات میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ بجلی کی گری ہوئی تار سے آگ بھڑکی جو تیز ہواؤں کے باعث تیزی سے پھیل گئی۔
