لندن: برطانیہ میں بچیوں سے جنسی زیادتی اور ایک خاتون پر چاقو سے حملے کے مقدمات میں سزا یافتہ خاتون ایما کینٹ جیل میں دورانِ قید ہلاک ہو گئی، جبکہ اس کی موت سے متعلق تحقیقات کی رپورٹ بھی سامنے آ گئی ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایما کینٹ کو 2016 میں دو کم عمر بچیوں سے جنسی زیادتی اور ان کے سامنے نامناسب جنسی حرکات کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے قرار دیا تھا کہ اس کے جرائم میں تشدد کا واضح عنصر موجود تھا۔
بعد ازاں یہ بھی سامنے آیا کہ وہ اس وقت پہلے ہی ایک اور مقدمے میں چھ سال قید کی سزا کاٹ رہی تھی، جس میں اس نے ایک خاتون کے گلے پر چاقو سے حملہ کر کے اسے شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا تھا۔
سزا کے دوران ایما کینٹ کو مختلف جیلوں میں منتقل کیا گیا، جہاں اس نے آتش زنی اور جیل عملے پر حملے سمیت مزید جرائم کا ارتکاب کیا، جس پر اسے مزید 34 ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
بعد ازاں اسے ذہنی اور جسمانی صحت کے مسائل کے باعث کچھ عرصہ خصوصی طبی ادارے میں بھی رکھا گیا، تاہم دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
جولائی 2023 میں خود کو زخمی کرنے کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں علاج کے بعد دوبارہ جیل لایا گیا۔ اگلے روز وہ اپنی کوٹھڑی میں بے ہوش پائی گئی اور طبی امداد کے باوجود جانبر نہ ہو سکی۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق اس کی موت تجویز کردہ ادویات کے امتزاج سے ہونے والی زہریلی کیفیت (Mixed Drug Toxicity) کے باعث ہوئی۔
پرزنز اینڈ پروبیشن اومبڈزمین کی تحقیقات میں کہا گیا کہ قیدی کو فراہم کی گئی طبی سہولیات مناسب تھیں اور ادویات قومی طبی رہنما اصولوں کے مطابق تجویز کی گئی تھیں، اس لیے کسی اضافی سفارش کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایما کینٹ ایک پیچیدہ قیدی تھی، تاہم جیل اور طبی عملے نے اس کی دیکھ بھال اور خود کو نقصان پہنچانے کے واقعات سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون سے کام کیا۔
