لندن: برطانیہ میں مقتول پولیس افسر پی سی اینڈریو ہارپر کے قاتلوں کی ممکنہ قبل از وقت رہائی کے فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ اینڈی برنہم نے بھی اس صورتحال پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو جیلوں میں گنجائش کی شدید کمی کے باعث یہ مشکل فیصلے کرنا پڑ رہے ہیں۔
پی سی اینڈریو ہارپر کی والدہ ڈیبی ایڈلم نے کہا کہ ان کا خاندان جیلوں میں گنجائش کے بحران کی "قیمت ادا کر رہا ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں شدید مایوسی ہوئی ہے کیونکہ ان کے بیٹے کے قاتلوں کو سزا میں تبدیلی کے باوجود قبل از وقت رہائی کی اہلیت حاصل رہے گی۔
انہوں نے کہا:
"ہمیں لگتا ہے کہ اینڈریو اور ہمارے خاندان کے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا۔ اس صورتحال میں ہمیں زیادہ تحفظ اور حمایت ملنی چاہیے تھی۔”
پی سی اینڈریو ہارپر 2019 میں برکشائر میں ایک کواڈ بائیک چوری کے واقعے پر کارروائی کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔ وہ ایک فرار ہونے والی گاڑی کے ساتھ بندھی پٹی میں پھنس گئے تھے اور سڑک پر گھسیٹے جانے کے باعث جان کی بازی ہار گئے تھے۔
اس مقدمے میں:
- ہنری لانگ کو 16 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جو اس نئی اسکیم کے تحت قبل از وقت رہائی کا اہل نہیں۔
- جبکہ جیسی کول اور البرٹ باورز کو قتلِ خطا (Manslaughter) کے جرم میں 13،13 سال قید کی سزا دی گئی تھی اور وہ نئی پالیسی کے تحت سزا کا نصف حصہ مکمل کرنے کے بعد رہائی کے اہل ہو سکتے ہیں۔
وزیر انصاف الیکس نورس نے کہا کہ انہیں اور اینڈی برنہم دونوں کو اس فیصلے پر غصہ ہے، لیکن اگر حکومت یہ اقدام نہ کرتی تو رواں سال اکتوبر یا نومبر تک برطانیہ کی جیلوں میں قیدی رکھنے کی جگہ ختم ہو جاتی۔
انہوں نے مقتول افسر کی والدہ اور بیوہ لیسی ہارپر سے معذرت کرتے ہوئے کہا:
"میں جانتا ہوں کہ یہ ان کی غلطی نہیں، اور مجھے افسوس ہے کہ انہیں اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔”
لیسی ہارپر نے قاتلوں کی ممکنہ جلد رہائی کو "انصاف کی توہین” اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ "کھلا دھوکہ” قرار دیا۔
دوسری جانب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ریپ، بچوں کے خلاف سنگین جنسی جرائم اور گرومنگ جیسے مقدمات میں سزا پانے والے مجرم اس نئی قبل از وقت رہائی اسکیم سے مستثنیٰ ہوں گے، تاہم بعض دیگر سنگین جرائم میں سزا یافتہ قیدی نئی پالیسی کے تحت رعایت حاصل کر سکیں گے۔
