تکبیر نیوز (لندن): برطانیہ میں سڑکوں پر غیر محفوظ گاڑیاں چلانے والوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، جہاں سال 2025 کے دوران 10 ہزار 54 ڈرائیوروں کے ڈرائیونگ لائسنس پر پینلٹی پوائنٹس درج کیے گئے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خراب حالت میں گاڑیاں چلانا نہ صرف ڈرائیور بلکہ دیگر شہریوں کی جانوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
برطانوی ادارے آر اے سی (RAC) کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں 13 ہزار 109 ڈرائیوروں کو غیر محفوظ گاڑیاں چلانے پر پینلٹی پوائنٹس دیے گئے تھے، جبکہ 2025 میں یہ تعداد کم ہو کر 10 ہزار 54 رہ گئی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کمی کو مکمل طور پر مثبت پیش رفت قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ اس کی ایک وجہ سڑکوں پر ٹریفک پولیس کی کم موجودگی بھی ہو سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال سب سے زیادہ کارروائیاں خراب یا گھسے ہوئے ٹائروں کی وجہ سے کی گئیں، جن میں 6 ہزار 670 ڈرائیوروں کو سزا دی گئی۔ برطانوی قوانین کے تحت خراب ٹائروں کے ساتھ گاڑی چلانے پر ہر ٹائر کے حساب سے ڈھائی ہزار پاؤنڈ تک جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
اس کے علاوہ 3 ہزار 384 ڈرائیوروں کے خلاف ناقص بریک، خراب اسٹیئرنگ اور دیگر مکینیکل خرابیوں کے باعث کارروائی کی گئی، کیونکہ ایسی گاڑیاں سڑک پر چلانے کے لیے غیر محفوظ تصور کی جاتی ہیں۔
آر اے سی کے سروسنگ اینڈ ریپیئر مکینک آف دی ایئر جیک ہالسٹیڈ نے کہا کہ اب بھی بہت سی گاڑیاں ایسی حالت میں سڑکوں پر چل رہی ہیں جو حادثات کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان کے مطابق گھسے ہوئے ٹائر گاڑی کی سڑک پر گرفت کم کر دیتے ہیں، بریک لگانے کا فاصلہ بڑھ جاتا ہے اور ٹائر پھٹنے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صرف ٹائر ہی نہیں بلکہ بریک، اسٹیئرنگ اور گاڑی کا ہر مکینیکل حصہ محفوظ ڈرائیونگ میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے معمولی خرابی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
جیک ہالسٹیڈ نے مزید کہا کہ یہ اعداد و شمار ممکنہ طور پر اصل صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتے، کیونکہ ٹریفک پولیس کی کم تعداد کے باعث کئی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیور کارروائی سے بچ جاتے ہیں۔
انہوں نے ڈرائیوروں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی گاڑیوں کی باقاعدگی سے جانچ کرائیں، ٹائروں، بریکوں اور اسٹیئرنگ سمیت تمام اہم حصوں کی بروقت مرمت کروائیں اور ایم او ٹی، سروس، روڈ ٹیکس اور انشورنس کی تجدید کی تاریخوں پر بھی نظر رکھیں تاکہ جرمانوں اور قانونی کارروائی سے بچا جا سکے۔
