تکبیر نیوز (لیسٹر): برطانیہ کے شہر لیسٹر میں پارک کے اندر 62 سالہ دادا کو مکا مار کر ہلاک کرنے والے کواڈ بائیک سوار نے عدالت میں غیر ارادی قتل (Manslaughter) کا جرم قبول کر لیا۔ ملزم زخمی شخص کو سڑک پر تڑپتا چھوڑ کر فرار ہو گیا تھا اور ہنگامی امداد طلب کرنے کے بجائے اپنے ٹیٹو کی اپائنٹمنٹ منسوخ کرنے کے لیے فون کرتا رہا۔
لیسٹر کراؤن کورٹ میں سماعت کے دوران 33 سالہ جوشوا مور نے اعتراف کیا کہ اس نے 6 اپریل کو بیومونٹ لیز پارک میں 62 سالہ جیمز "جم” مک کیون کو مکا مارا، جس سے وہ زمین پر گر گئے اور ان کا سر پختہ فرش سے ٹکرا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ واقعے کے وقت ملزم کواڈ بائیک پر ایک کم عمر بچے کے ساتھ پارک میں موجود تھا۔ حملے کے بعد اس نے زخمی شخص کو ریکوری پوزیشن میں تو رکھا، لیکن فوری طبی امداد کے لیے 999 پر کال کرنے کے بجائے موقع سے چلا گیا۔
استغاثہ کے مطابق ملزم ایک گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد دوبارہ پارک پہنچا، جہاں اس وقت تک پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا تھا۔ اسی موقع پر اس نے پولیس کے سامنے حملے کا اعتراف بھی کیا۔
تفتیش کے دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ زخمی شخص کی جان بچانے کے لیے ایمبولینس بلانے کے بجائے ملزم نے اگلے روز کی اپنی ٹیٹو اپائنٹمنٹ منسوخ کرنے کو ترجیح دی، جسے عدالت میں انتہائی تشویشناک رویہ قرار دیا گیا۔
شدید زخمی ہونے والے جیمز مک کیون کو اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے اور بعد ازاں دم توڑ گئے۔
سماعت کے دوران جج ٹموتھی اسپینسر نے ملزم سے کہا کہ جرم قبول کرنا ایک اہم قدم ضرور ہے، لیکن اس نے ایک شخص کی جان لینے کا اعتراف کیا ہے، جو انتہائی سنگین جرم ہے اور اس پر قید کی سزا ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔
عدالت نے ملزم کی سزا سنانے کے لیے 31 جولائی کی تاریخ مقرر کر دی ہے۔
متوفی کے اہل خانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ جیمز مک کیون، جنہیں مقامی لوگ محبت سے "اسپائیڈر” کے نام سے جانتے تھے، گزشتہ تقریباً 20 برس سے علاقے میں رہائش پذیر تھے۔ وہ ایک شفیق والد، بھائی، شریک حیات اور دادا تھے، جبکہ ان کی اچانک موت نے پورے خاندان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دی ہے۔
اہل خانہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اس مشکل وقت میں ان کی نجی زندگی کا احترام کیا جائے تاکہ وہ اپنے پیارے کے غم سے سنبھل سکیں۔
