تکبیر نیوز — لندن:
برطانیہ میں 18 سالہ ہنری نوواک کے قتل کے مجرم وکرم ڈگوا نے اپنی سزا اور قتل کی سزا (Conviction) کے خلاف کورٹ آف اپیل میں درخواست دائر کر دی ہے۔
23 سالہ وکرم ڈگوا کو گزشتہ ماہ عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس کے تحت اسے کم از کم 21 سال قید کاٹنا ہوگی۔ اسے ساوتھمپٹن کراؤن کورٹ نے ہنری نوواک کے قتل کا مجرم قرار دیا تھا۔
اب کورٹ آف اپیل نے تصدیق کی ہے کہ ڈگوا کے وکلا نے نہ صرف قتل کی سزا ختم کرنے بلکہ اس کی قید کی مدت کم کرنے کے لیے بھی اپیل دائر کی ہے۔
دوسری جانب، اس مقدمے کو سولیسٹر جنرل نے بھی عدالت میں اس بنیاد پر بھیجا ہے کہ ملزم کو دی گئی سزا ممکنہ طور پر بہت کم ہے اور اسے بڑھانے پر غور کیا جائے۔
عدالت کے ترجمان کے مطابق پہلے ایک جج یہ فیصلہ کریں گے کہ آیا ملزم کو اپیل کی اجازت دی جائے یا نہیں۔ اگر اجازت ملتی ہے تو مقدمہ کورٹ آف اپیل کرمنل ڈویژن کے تین ججوں کے بینچ کے سامنے سنا جائے گا۔
وکرم ڈگوا کو یکم جون کو جج ولیم موسلے کے سی نے سزا سنائی تھی۔ مقدمے میں استغاثہ کے مطابق اس نے 3 دسمبر کو 18 سالہ ہنری نوواک کو سڑک پر آٹھ انچ لمبے چاقو کے متعدد وار کر کے قتل کیا تھا۔
ملزم نے دورانِ سماعت دعویٰ کیا تھا کہ وہ چاقو اپنے سکھ مذہبی عقیدے کی وجہ سے ساتھ رکھتا تھا اور یہ بھی مؤقف اختیار کیا کہ ہنری نے اس پر نسلی توہین کی اور پہلے حملہ کیا، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے اسے قتل کا مجرم قرار دیا۔
سزا کے بعد جاری ہونے والی پولیس کی باڈی کیم فوٹیج میں دکھایا گیا تھا کہ زخمی ہنری نوواک کو ابتدائی طور پر پولیس نے ہی مشتبہ سمجھ کر ہتھکڑی لگا دی، جبکہ وہ مسلسل بتا رہا تھا کہ اسے چاقو مارا گیا ہے اور وہ سانس نہیں لے پا رہا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے دل پر وار ہوا تھا۔
اس واقعے کی فوٹیج منظر عام پر آنے کے بعد ساوتھمپٹن میں احتجاج بھی ہوا، جبکہ دو پولیس افسران کے خلاف پیشہ ورانہ بدانتظامی کی تحقیقات جاری ہیں۔
وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر بھی ہنری نوواک کے اہلِ خانہ سے ملاقات کر چکے ہیں اور انہوں نے اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے انصاف کی یقین دہانی کرائی تھی۔
