تکبیر نیوز، لندن: امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مفاہمتی معاہدے کے بعد برطانیہ میں رہائشی قرضوں کی شرح میں ممکنہ کمی کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ مالیاتی ماہرین اور قرضہ مشیر اس بات پر متفق ہیں کہ شرح میں کمی کا امکان موجود ہے، تاہم اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ کمی کتنی جلدی سامنے آئے گی۔
حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا، جس کے نتیجے میں برطانیہ میں مہنگائی کے خدشات بڑھے اور رہائشی قرضوں کی شرح بھی اوپر چلی گئی۔ اب جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا چکا ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ معاشی صورتحال بتدریج بہتر ہو سکتی ہے۔
قرضوں کے شعبے سے وابستہ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مالیاتی منڈیاں اسی طرح مثبت اشارے دیتی رہیں تو آئندہ تین سے چار ماہ کے دوران رہائشی قرضوں کی شرح چار فیصد سے کم سطح پر واپس آ سکتی ہے۔ ان کے مطابق کئی بڑے مالیاتی ادارے پہلے ہی اپنی شرحوں میں کمی کا سلسلہ شروع کر چکے ہیں۔
دوسری جانب بعض ماہرین اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، جبکہ برطانیہ میں مہنگائی، شرح سود اور سیاسی غیر یقینی صورتحال بھی اہم عوامل ہیں جو قرضوں کی شرح میں فوری کمی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ منڈیوں میں اعتماد بحال ہونا شروع ہو گیا ہے، تاہم قرض لینے یا موجودہ قرض تبدیل کرنے کے خواہشمند افراد کو جلد بازی میں فیصلے کرنے کے بجائے صورتحال کا بغور جائزہ لینا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات گزشتہ چند ماہ کے مقابلے میں بہتر ضرور ہوئے ہیں، لیکن یہ پیشگوئی کرنا مشکل ہے کہ رہائشی قرضوں کی شرح کب مکمل طور پر اس سطح پر واپس آئے گی جو ایران امریکا کشیدگی سے پہلے دیکھی جا رہی تھی۔
برطانیہ بھر میں لاکھوں خاندان رہائشی قرضوں کی شرح میں کمی کے منتظر ہیں کیونکہ بلند شرح سود کے باعث گھروں کی خریداری اور ماہانہ اقساط کا بوجھ نمایاں طور پر بڑھ چکا ہے۔ اسی لیے آنے والے مہینوں میں مرکزی بینک اور مالیاتی منڈیوں کے فیصلوں پر خاص نظر رکھی جا رہی ہے۔
