(تکبیر نیوز—- برطانیہ، والسال) والسال میں ایک افسوسناک حادثے کے بعد پانچ بچوں کی ماں کی ہلاکت پر اہلخانہ نے کینال کے اطراف حفاظتی باڑ لگانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
جوڈی براؤن کی لاش 3 مئی کی صبح والسال کے وولور ہیمپٹن اسٹریٹ کے قریب کینال سے نکالی گئی تھی۔
ویسٹ مڈلینڈز پولیس کے مطابق خاتون کو بچانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں اور انہیں موقع پر ہی مردہ قرار دے دیا گیا۔
پولیس نے بتایا کہ واقعے کو مشکوک قرار نہیں دیا جا رہا جبکہ معاملہ کورونر کے حوالے کیا جائے گا۔
جوڈی کے بھائی پال کلارک نے بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں انہیں کینال کے کنارے چلتے دیکھا گیا جس کے بعد وہ پانی میں گر گئیں۔
انہوں نے کہا کہ “میرے خیال میں وہ تیرنا نہیں جانتی تھیں۔”
اہلخانہ کے مطابق اسی مقام پر ماضی میں بھی کئی افراد، حتیٰ کہ بچے بھی، پانی میں گر چکے ہیں۔
پال کلارک نے اب ایک آن لائن پٹیشن شروع کر دی ہے جس میں والسال کونسل سے فوری حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “ہم صرف بہتر حفاظتی انتظامات چاہتے ہیں تاکہ کوئی اور خاندان ایسا درد نہ جھیلے۔”
پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کے کئی کینالز کے اطراف پہلے ہی باڑ اور حفاظتی رکاوٹیں لگائی جا چکی ہیں جس سے حادثات میں نمایاں کمی آئی۔
اہلخانہ کا مؤقف ہے کہ والسال کینال چونکہ مصروف ٹاؤن سینٹر میں واقع ہے اس لیے یہاں بھی فوری حفاظتی باڑ لگائی جانی چاہیے۔
والسال کونسل نے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کینال اینڈ ریور ٹرسٹ اس حادثے کی اندرونی تحقیقات کر رہا ہے اور تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا۔
کینال اینڈ ریور ٹرسٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں حفاظتی اقدامات کے طور پر تھرو لائنز، اضافی سائن بورڈز اور واٹر سیفٹی پروگرام متعارف کرائے گئے تھے۔
ادارے نے کہا کہ اگرچہ مکمل باڑ لگانا آسان حل لگتا ہے لیکن عملی طور پر یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے کیونکہ کشتی رانی اور ریسکیو رسائی بھی برقرار رکھنا ضروری ہوتی ہے۔
دوسری جانب جوڈی براؤن کے اہلخانہ کی مدد کیلئے فنڈ ریزنگ مہم بھی شروع کی گئی ہے جہاں اب تک 600 پاؤنڈ سے زائد جمع کیے جا چکے ہیں۔
