تکبیر نیوز (اسلام آباد): سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت سے متعلق شکایات پر بڑا حکم جاری کرتے ہوئے انہیں جیل سے اسپتال منتقل کرنے کی ہدایت کردی۔ تین رکنی بینچ نے حکم دیا ہے کہ عمران خان کو آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا جائے، جہاں ماہر ڈاکٹرز ان کا مکمل طبی معائنہ کریں گے۔
عدالت نے عمران خان کو اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت دینے کے ساتھ ان کے بیٹوں سے ٹیلی فون پر بات چیت کی سہولت فراہم کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ قیدی کی زندگی، صحت، عزت اور تحفظ کا خیال رکھنا آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ تین رکنی بینچ نے قرار دیا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ زیر حراست شخص کی صحت اور زندگی کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
عمران خان کے وکلا کی جانب سے طویل عرصے سے ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ وکلا کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم مختلف طبی مسائل کا سامنا کررہے ہیں، جن میں بینائی کی کمزوری بھی شامل ہے، جبکہ انہیں ماہر ڈاکٹروں سے مطلوبہ طبی سہولیات حاصل نہیں ہو رہیں۔
رواں سال فروری میں عمران خان کے وکیل نے دعویٰ کیا تھا کہ جیل حکام کی جانب سے بروقت طبی اقدامات نہ کیے جانے کے باعث ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصد رہ گئی ہے۔ تاہم حکومت نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔
سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق عمران خان کے اسپتال میں علاج کے دوران آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی تاکہ ان کی بینائی اور دیگر طبی مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا جاسکے۔
عدالتی فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے عمران خان کے مشیر ذوالفقار بخاری نے کہا کہ کاش یہ اقدام پہلے کردیا جاتا تاکہ ان کی آنکھ اور مجموعی صحت اس حد تک خراب نہ ہوتی۔
عدالت اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں نے عمران خان کے اسپتال منتقل کیے جانے کے موقع پر کارکنوں اور حامیوں کو اسپتال کے باہر جمع نہ ہونے کی ہدایت بھی کی ہے۔ عدالت کے مطابق اسپتال کے باہر اجتماع عدالتی حکم کی خلاف ورزی تصور ہوسکتا ہے۔
عمران خان اگست 2023 سے مختلف مقدمات میں جیل میں ہیں۔ ان کے خلاف 100 سے زائد مقدمات میں کارروائی ہوئی ہے جن میں ریاستی راز افشا کرنے سے لے کر سرکاری تحائف کی فروخت سمیت مختلف الزامات شامل ہیں۔ عمران خان اور ان کی جماعت ان مقدمات کو سیاسی بنیادوں پر قائم کیے جانے کا مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں۔
عمران خان 2018 سے 2022 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے جبکہ اس سے قبل وہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی گرفتاری اور قید کے بعد ملک بھر میں ان کے حامیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاج بھی کیے گئے، جن کے خلاف حکام نے کارروائیاں کیں۔
جیل میں ہونے کے باوجود عمران خان پاکستانی سیاست میں اب بھی ایک نمایاں سیاسی شخصیت ہیں اور ان کی جماعت تحریک انصاف کے ملک بھر میں بڑی تعداد میں حامی موجود ہیں۔
حکومت پاکستان کی جانب سے سپریم کورٹ کے تازہ حکم پر تاحال کوئی باضابطہ عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
