تکبیر نیوز (مڈلزبرا): مڈلزبرا کے قریب گرینج ٹاؤن میں مہلک گھر میں آتشزدگی کے بعد قتل کے شبے میں گرفتار 23 سالہ شخص جیڈن رائٹ کو الگ مبینہ واقعات میں شدید جسمانی نقصان پہنچانے اور جان بوجھ کر گلا دبانے کے الزامات میں عدالت میں پیش کردیا گیا۔
جیڈن رائٹ کو ہفتے کے روز ٹیس سائیڈ مجسٹریٹس کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں اس پر سنگین جسمانی نقصان پہنچانے اور جان بوجھ کر گلا دبانے کے الزامات عائد کیے گئے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ رائٹ کو بدھ کے روز ٹیس سائیڈ کے گرینج ٹاؤن علاقے میں پیش آنے والی ہاؤس فائر کے سلسلے میں قتل کے شبے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
اس آتشزدگی میں 34 سالہ نٹالی میکڈونلڈ اور ان کی 7 سالہ بھانجی ویلنٹینا فوسٹر ہلاک ہوگئی تھیں۔
تاہم عدالت میں رائٹ پر عائد کیے گئے تازہ الزامات اس آتشزدگی سے الگ ایک مبینہ واقعے سے متعلق ہیں، جو 25 اگست کو گرینج فارم روڈ پر پیش آیا تھا۔
پراسیکیوٹرز نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے میں شکایت کنندہ خاتون ایک خیمے میں رہ رہی تھیں اور مبینہ طور پر ملزم نے ان پر حملہ کیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ خاتون کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں معائنے کے دوران ان کے چہرے پر متعدد زخموں کا انکشاف ہوا، جن میں آنکھ کے کَپّے کی ہڈی کا فریکچر بھی شامل تھا۔
مجسٹریٹس نے رائٹ کو پولیس کی تحویل میں رکھنے کی درخواست منظور کرلی۔ وہ 2 ستمبر کو اسی عدالت میں دوبارہ پیش ہوگا۔
عدالت میں ملزم کی جانب سے کوئی اقرار یا انکار نہیں کیا گیا۔ رائٹ نے صرف اپنا نام اور ذاتی معلومات کی تصدیق کی۔
ادھر بدھ کے روز ہونے والی ہاؤس فائر میں چار دیگر افراد بھی زخمی ہوئے تھے۔
کلیولینڈ پولیس کے مطابق ایک 48 سالہ خاتون نیوکاسل کے رائل وکٹوریہ انفرمری میں تشویشناک لیکن مستحکم حالت میں زیر علاج ہیں، جبکہ ایک 27 سالہ شخص جیمز کُک یونیورسٹی اسپتال میں زیر علاج ہے۔
پولیس کے مطابق دو نوعمر لڑکیوں کو بھی ایسی چوٹیں آئی تھیں جو جان لیوا نہیں تھیں اور علاج کے بعد انہیں اسپتال سے فارغ کردیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ متاثرہ گھر اس وقت غیر مستحکم حالت میں ہے اور آنے والے دنوں میں عمارت کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری کام کیا جائے گا۔
کلیولینڈ پولیس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ فی الحال گرینج ٹاؤن کی مہلک آتشزدگی کو گزشتہ ہفتے اے 66 پر ہونے والے جان لیوا حادثے سے منسلک نہیں کیا جا رہا۔
اے 66 حادثے میں پانچ نوجوانوں اور دو پولیس افسران سمیت سات افراد ہلاک ہوئے تھے۔
