تکبیر نیوز: نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد امدادی اور تلاش کا آپریشن ہفتے کے روز چوتھے روز بھی جاری رہا، تاہم خراب موسم کے باعث بعض علاقوں میں ہیلی کاپٹر کے ذریعے امدادی کارروائیاں عارضی طور پر متاثر ہوئیں۔
نیپال میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 626 ہوگئی ہے جبکہ 2,426 افراد تاحال لاپتا ہیں۔ حکام کے مطابق اب تک ملک میں 3,700 سے زائد افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔
ریسکیو اہلکار اور فوجی دستے بدھ کے روز آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد مسلسل امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ کئی مقامات پر کیچڑ میں پھنسے افراد کو تلاش کیا جا رہا ہے جبکہ بعض زندہ بچ جانے والوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
خراب موسم کے باعث فضائی امداد متاثر
نیپالی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجا رام بسنیٹ کے مطابق خراب موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹر آپریشن کچھ دیر کے لیے روکنا پڑا، تاہم بعد میں بعض علاقوں میں پروازیں دوبارہ شروع کر دی گئیں۔
سیلاب سے شدید متاثرہ ضلع نواکوٹ میں امدادی ہیلی کاپٹر متاثرین کے لیے کپڑے، فوری تیار ہونے والی خوراک، بسکٹ اور چاول سمیت امدادی سامان لے کر پہنچے۔
کچھ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سیلاب زدہ علاقوں سے متاثرین کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ کئی افراد اپنے گھروں سے صرف وہی کپڑے لے کر نکل سکے جو انہوں نے پہن رکھے تھے، جبکہ کچھ کے ہاتھوں میں چھوٹے تھیلے تھے۔
ریسکیو کیے جانے والوں میں بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ امدادی مراکز میں طبی عملہ متاثرین کی صحت کا معائنہ کر رہا ہے۔
لاپتا افراد کے اہل خانہ پریشان
نواکوٹ کے ایک امدادی مرکز میں لاپتا افراد کے اہل خانہ ہفتے کے روز اپنے پیاروں کی خبریں ملنے کے منتظر رہے۔
فوجی اہلکاروں نے لاپتا افراد کی فہرستیں دیوار پر آویزاں کیں، جس کے گرد خاندانوں کی بڑی تعداد اپنے رشتہ داروں کے نام تلاش کرتی رہی۔
کئی افراد نے فہرستوں کی تصاویر بنائیں جبکہ بعض اپنے پیاروں کے نام تلاش کرتے ہوئے آنسو پونچھتے دکھائی دیے۔
سرنگ میں پھنسے افراد کی تلاش جاری
نیپال کے ضلع راسوا میں واقع اپر تریشولی ون پن بجلی منصوبے کے مقام پر بھی امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں حکام کے مطابق 100 سے زائد افراد کے کیچڑ سے بھری ایک سرنگ میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
نیپالی فوج کے ترجمان کے مطابق ریسکیو اہلکار رسیوں اور ٹوکریوں کی مدد سے متاثرہ افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم سرنگ میں تقریباً چار سے پانچ فٹ کیچڑ موجود ہونے اور ہیلی کاپٹروں کے اترنے کے لیے محدود جگہوں کے باعث کارروائی انتہائی مشکل ہے۔
ممکنہ مزید سیلاب کی وارننگ کے باعث امدادی ٹیموں کو بعض اوقات عارضی طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونا پڑا۔
مزید سیلاب کا خطرہ
حکام کو ایک نئی جھیل سے مزید سیلاب کا خدشہ بھی ہے جو ابتدائی سیلاب کے بعد ہمالیہ کے بلند علاقے میں وجود میں آئی تھی۔
ماہرین کے مطابق گلیشیئر کے ٹوٹنے سے آنے والے سیلاب کے نتیجے میں بننے والی یہ جھیل پہلے اوور فلو ہونا شروع ہوگئی تھی، تاہم چینی وزارتِ آبی وسائل کے اعداد و شمار کے مطابق جمعہ کی رات تک جھیل کے حجم میں کمی دیکھی گئی۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق جمعرات کی صبح اپنی بلند ترین سطح کے مقابلے میں جھیل کی سطح میں تقریباً 10 میٹر کمی ہوئی۔
چین کی جانب بھی امدادی سرگرمیاں
چین کی جانب تبت میں واقع گیئرونگ سرحدی گزرگاہ بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ امدادی کارکن پیدل اور کشتیوں کے ذریعے متاثرہ علاقے تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چینی ذرائع ابلاغ کی جاری کردہ تصاویر میں ریسکیو اہلکاروں کو علاقے میں پھنسے افراد کی تلاش کرتے دیکھا گیا۔
چین کی جانب سے 554 افراد کے لاپتا ہونے کی اطلاع دی گئی ہے جبکہ وہاں ہلاکتوں کی تعداد جمعہ تک سات ہو چکی تھی۔
نیپال اور چین کے سیلاب زدہ علاقوں میں لاپتا افراد میں بڑی تعداد غیر ملکیوں کی بھی ہے، جن میں کام، سیاحت، ٹریکنگ یا مذہبی زیارت کے لیے علاقے میں موجود افراد شامل تھے۔
