ممبئی ہائیکورٹ نے 90 سالہ خاتون کے ہتکِ عزت کے مقدمے میں حیران کن فیصلہ سناتے ہوئے حکم دیا ہے کہ کیس کی سماعت اب 2046ء کے بعد ہی ہوگی، جبکہ عدالت نے اسے فریقین کے درمیان ’’انا کی جنگ‘‘ قرار دے دیا۔
Takbeer News کے مطابق یہ مقدمہ 2017ء میں دائر کیا گیا تھا، جس میں درخواست گزار خاتون نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ 2015ء میں سوسائٹی کے ایک اجلاس کے دوران پیش آنے والے واقعات نے انہیں شدید ذہنی اذیت پہنچائی۔
خاتون نے عدالت سے 20 کروڑ بھارتی روپے ہرجانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
حالیہ سماعت کے دوران ممبئی ہائی کورٹ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مقدمات عدالتی نظام پر غیر ضروری بوجھ بنتے ہیں اور دیگر اہم مقدمات کی سماعت میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ صرف درخواست گزار کی زیادہ عمر کی بنیاد پر کسی کیس کو ترجیح نہیں دی جا سکتی، کیونکہ انصاف کے نظام میں تمام مقدمات کو قانون کے مطابق دیکھا جاتا ہے۔
جج نے کہا کہ اس معاملے کو پہلے معافی اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا تھا، تاہم درخواست گزار خاتون اپنے مؤقف پر قائم رہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقدمے میں مسلسل تاخیر، بار بار التواء اور قانونی پیچیدگیوں کے باعث عدالت نے فیصلہ کیا کہ اب اس کیس کی سماعت 2046ء کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
عدالتی فیصلے نے قانونی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ سوشل میڈیا پر بھی یہ خبر غیر معمولی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
