اسلام آباد ہائیکورٹ سے دیگر صوبائی ہائیکورٹس میں ٹرانسفر ہونے والے تینوں ججز کی سنیارٹی متاثر ہو گئی، جہاں وہ اپنی نئی عدالتوں میں جونیئر جج کے طور پر خدمات انجام دیں گے۔
Takbeer News کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کے تبادلوں کے بعد ان کی نئی سنیارٹی پوزیشن سامنے آ گئی ہے، جس کے مطابق تینوں ججز اپنی سابقہ پوزیشن کے مقابلے میں نمایاں طور پر نیچے چلے گئے ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنیارٹی لسٹ میں دوسرے نمبر پر تھے، تاہم لاہور ہائیکورٹ میں تبادلے کے بعد ان کا نمبر بارہواں ہوگا۔
اسی طرح جسٹس بابر ستار اسلام آباد ہائیکورٹ میں تیسرے نمبر پر تھے، لیکن پشاور ہائیکورٹ میں ان کی سنیارٹی چھٹے نمبر پر چلی گئی ہے۔
جسٹس ثمن رفعت امتیاز اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنیارٹی لسٹ کے مطابق چھٹے نمبر پر تھیں، جبکہ سندھ ہائیکورٹ میں تبادلے کے بعد ان کا نمبر سولہواں ہوگا۔
تینوں ججز اب پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا کی ہائیکورٹس میں بطور جونیئر جج مقدمات کی سماعت کریں گے، تاہم جسٹس بابر ستار انتظامی کمیٹی کا حصہ بن جائیں گے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کے تبادلوں سے متعلق باضابطہ نوٹیفکیشن تاحال جاری نہیں ہو سکا۔
جسٹس محسن اختر کیانی بدستور اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے اور معمول کے مطابق کیسز کی سماعت جاری رکھی، جبکہ ان کی عدالت کی کاز لسٹ بھی عدالت کے باہر آویزاں کر دی گئی۔
جسٹس ثمن رفعت امتیاز بھی کیسز کی سماعت کر رہی ہیں، تاہم جسٹس بابر ستار کی عدالت کی کاز لسٹ منسوخ کر دی گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز جوڈیشل کمیشن آف پاکستان نے اکثریتی رائے سے تینوں ججز کے تبادلوں کی منظوری دی تھی، جبکہ جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس خادم حسین سومرو کے تبادلوں کی تجویز واپس لے لی گئی تھی۔
اس پیش رفت نے قانونی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ججز کی سنیارٹی اور عدالتی انتظامی معاملات پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔
