چین میں جدید طبی سہولیات نے ایک حیران کن مثال قائم کر دی، جہاں 40 سالہ شخص کا دل 40 گھنٹے سے زائد وقت تک بند رہنے کے باوجود وہ نہ صرف زندہ بچ گیا بلکہ مکمل طور پر صحت یاب بھی ہو گیا۔
Takbeer News کے مطابق یہ غیر معمولی واقعہ چین کے زیشیانگ اسپتال میں پیش آیا، جہاں ڈاکٹروں نے اپنی مہارت اور جدید مشینری کی مدد سے ایک ناممکن دکھائی دینے والی جان بچا لی۔
رپورٹس کے مطابق مریض کو ابتدا میں سینے میں شدید درد اور سانس لینے میں دشواری کے باعث اسپتال لایا گیا تھا، لیکن حالت بگڑنے پر اس کا دل اور سانس دونوں بند ہو گئے۔
طبی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے مریض کو فُلمننٹ مایوکارڈائٹس یعنی دل کی شدید سوزش میں مبتلا قرار دیا، جو غالباً کسی وائرل انفیکشن کے بعد پیدا ہوئی تھی۔
ڈاکٹروں نے تقریباً 10 مرتبہ برقی جھٹکوں یعنی ڈیفبریلیشن کے ذریعے دل کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی، تاہم ابتدائی طور پر کوئی کامیابی نہ مل سکی۔
بعد ازاں مریض کو ای سی ایم او نامی جدید لائف سپورٹ مشین پر منتقل کیا گیا، جو مصنوعی طور پر دل اور پھیپھڑوں کا کام انجام دیتی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق مریض کا دل 40 گھنٹے سے زائد وقت تک تقریباً مکمل طور پر بند رہا، مگر ای سی ایم او اور مسلسل طبی نگرانی کی وجہ سے وہ زندہ رہا۔
تقریباً 40 گھنٹے بعد مریض کے دل کی دھڑکن اور کارڈیک فنکشن بحال ہونا شروع ہو گئے، جس کے بعد اسے مزید 10 دن تک مشین کی مدد پر رکھا گیا۔
بعد ازاں مریض کو کارڈیالوجی وارڈ منتقل کیا گیا اور تقریباً 20 دن کے اندر وہ مکمل ہوش میں آ گیا اور بغیر کسی سہارے کے چلنے پھرنے کے قابل ہو گیا۔
اس حیران کن صحت یابی پر مریض کے اہلِ خانہ نے اسپتال انتظامیہ کو شکریے کے طور پر روایتی سلک بینر پیش کیا۔
رپورٹس کے مطابق ای سی ایم او جیسے جدید علاج کا روزانہ خرچ ہزاروں یوآن تک پہنچ سکتا ہے، جو اکثر مکمل طور پر انشورنس کے تحت کور نہیں ہوتا۔
