مشرقِ وسطیٰ کے بحران اور پاکستان کی فضائی حدود کی بندش کے باعث بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری شدید مالی دباؤ کا شکار ہو گئی ہے، جبکہ ایئر انڈیا، انڈیگو اور سپائس جیٹ جیسی بڑی فضائی کمپنیاں بندش کے خطرے سے دوچار بتائی جا رہی ہیں۔
Takbeer News کے مطابق بھارتی جریدے دی ہندو اور این ڈی ٹی وی نے اپنی رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس نے بھارتی فضائی کمپنیوں کے مالی بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایئر انڈیا، انڈیگو اور سپائس جیٹ نے بھارتی حکومت سے ایوی ایشن ٹربائن فیول کی قیمتوں پر فوری نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے اخراجات پر قابو پایا جا سکے۔
بھارتی میڈیا نے خود اعتراف کیا ہے کہ جیٹ ایندھن کی قیمتوں میں بے قابو اضافہ ایئرلائنز کے لیے ناقابلِ برداشت نقصانات کا باعث بن رہا ہے، جس سے پروازوں کی تعداد میں کمی اور آپریشنز متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری مداخلت نہ کی گئی تو کئی طیارے گراؤنڈ کرنے اور متعدد پروازیں منسوخ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی معاشی نااہلی، کمزور پالیسی سازی اور ناقص حکمت عملی نے بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کو بندش کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی فضائی پابندیاں اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال نے بھارتی فضائی کمپنیوں پر اضافی بوجھ ڈال دیا ہے، جس سے مودی حکومت کے ’شائننگ انڈیا‘ کے دعوے بھی سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف بھارتی ایئرلائنز بلکہ ملکی معیشت پر بھی اس کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
