برطانیہ نے ایرانی سفارتخانے کے ایک متنازع پیغام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے لندن میں تعینات ایرانی سفیر سید علی موسوی کو دفتر خارجہ طلب کر لیا۔
Takbeer News کے مطابق برطانوی حکومت نے ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اشتعال انگیز بیان کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے فوری وضاحت طلب کی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ پیغام میں برطانیہ میں مقیم ایرانی شہریوں کو ’’وطن کے لیے قربانی‘‘ کی مہم میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی تھی، جس پر برطانوی حکام نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
برطانیہ کا مؤقف ہے کہ ایسے سفارتی بیانات نہ صرف حساس صورتحال کو مزید خراب کر سکتے ہیں بلکہ داخلی سلامتی اور سماجی ہم آہنگی پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
دفتر خارجہ کی جانب سے ایرانی سفیر کو طلب کر کے واضح کیا گیا کہ برطانوی سرزمین پر کسی بھی قسم کے اشتعال انگیز یا غیر ذمہ دارانہ پیغامات کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
برطانوی حکومت نے ایرانی سفارتخانے کے بیان کو سفارتی آداب کے خلاف قرار دیتے ہوئے اسے ناقابل قبول اور تشویشناک قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث برطانیہ اور ایران کے تعلقات پہلے ہی شدید تناؤ کا شکار ہیں، اور حالیہ واقعہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کشیدگی میں مزید اضافہ کر سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ علاقائی حالات میں ایسے بیانات بین الاقوامی تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
