امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے خود امریکا کو بتایا ہے کہ وہ تباہ ہو چکا ہے اور اس وقت انتہائی سنگین بحران کی کیفیت میں ہے۔
Takbeer News کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ایران نے امریکا کو اطلاع دی ہے کہ وہ شدید دباؤ اور بحران کا شکار ہے، جبکہ تہران چاہتا ہے کہ امریکا جلد از جلد آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں کردار ادا کرے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولی جائے تاکہ خطے میں تجارتی اور تیل کی ترسیل کا نظام بحال ہو سکے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایران کی قیادت کی موجودہ صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ ایران جلد کوئی فیصلہ کرے گا۔
دوسری جانب امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی تازہ تجاویز قبول کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران نے ایک منصوبہ پیش کیا تھا جس کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات بعد کی سفارتی بات چیت کے لیے چھوڑ دیے جائیں گے۔
اسی دوران یہ رپورٹ بھی سامنے آئی کہ ایران پر جنگی دباؤ کے دو ماہ بعد ایل این جی کی پہلی کھیپ آبنائے ہرمز عبور کر کے خلیج فارس سے باہر نکل گئی۔
امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے جہازوں کی نقل و حرکت کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ’مبارز‘ نامی ٹینکر بھارت کے جنوبی ساحل کے قریب سے گزرتا دیکھا گیا۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی توانائی منڈی، تیل کی قیمتوں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، اسی لیے دنیا کی نظریں ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی پر لگی ہوئی ہیں۔
