لندن اوورسیز پاکستانی فاؤنڈیشن کے چیئرمین سید قمر رضا نے ڈپٹی وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو خط لکھ کر پاکستان ہائی کمیشن اور جیریز کے درمیان قونصلر و ویزا سروسز سے متعلق پھیلنے والی غلط فہمیوں کو بے بنیاد قرار دے دیا ہے۔
Takbeer News کے مطابق سید قمر رضا نے اپنے خط میں واضح کیا کہ کمیونٹی میں یہ تاثر درست نہیں کہ پاکستان ہائی کمیشن یا قونصل خانے اپنی موجودہ خدمات بند کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ منصوبے کا مقصد صرف اوورسیز پاکستانیوں کو مزید سہولتیں فراہم کرنا ہے، نہ کہ موجودہ نظام کو ختم کرنا۔
انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے اپنے حالیہ دورۂ برطانیہ کے دوران کمیونٹی سے مشاورت کے بعد اس منصوبے پر اطمینان کا اظہار کیا تھا۔
اس منصوبے کے تحت متعلقہ ادارہ پاکستان ہائی کمیشن اور نادرا کے تعاون سے قونصلر اور ویزا سروسز فراہم کرے گا تاکہ خاص طور پر دور دراز علاقوں میں مقیم پاکستانیوں کو بہتر سہولتیں میسر آ سکیں۔
سید قمر رضا نے کہا کہ یہ خدشات بے بنیاد ہیں کہ ہائی کمیشن یا قونصل خانے اپنی خدمات بند کر دیں گے، تاہم انہوں نے زور دیا کہ ہائی کمیشن کو کمیونٹی کے تحفظات دور کرنے کے لیے مزید واضح رابطہ کرنا چاہیے۔
دوسری جانب پاکستان ہائی کمیشن پہلے ہی اس معاملے پر وضاحت جاری کر چکا ہے کہ مذکورہ ادارے کی شمولیت سے کمیونٹی کو زیادہ آسانی اور سہولت حاصل ہوگی۔
ہائی کمیشن کے مطابق یہ فیصلہ وزارتِ خارجہ کی منظوری اور شفاف طریقہ کار کے بعد کیا گیا ہے، جس سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے پاکستانیوں کو طویل سفر اور اضافی اخراجات سے نجات ملے گی۔
وضاحت میں بتایا گیا کہ ادارے کے سینٹرز پر صرف پاسپورٹ، ویزا اور نائیکوپ درخواستوں کی ڈیٹا انٹری، پروسیسنگ اور تصدیق کی جائے گی، جبکہ حتمی فیصلے متعلقہ پاکستانی ادارے ہی کریں گے۔
پاور آف اٹارنی، جائیداد اور دیگر اہم قونصلر خدمات بدستور پاکستان ہائی کمیشن اور قونصل خانوں کے دائرہ اختیار میں رہیں گی۔
مزید برآں، ادارے کے سینٹرز پر خدمات ویک اینڈ پر بھی دستیاب ہوں گی جبکہ ہائی کمیشن اور قونصل خانے معمول کے مطابق اپنی تمام خدمات جاری رکھیں گے۔
