پاکستانی کمپنی نے حیران کن خصوصیات کے حامل جدید ملٹری خیمے متعارف کرا دیے ہیں، جو ریڈار پر ظاہر نہیں ہوتے اور ڈرونز کی نگرانی سے بھی محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی امن میں پاکستان کے کردار اور دفاعی شعبے میں جدت کے باعث ملکی ایکسپورٹ میں اضافے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں اور عالمی خریدار پاکستان کو ایک نئے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔
جرمنی کے شہر Frankfurt میں 21 سے 24 اپریل کے دوران منعقد ہونے والی تکنیکی ٹیکسٹائل نمائش میں پاکستانی کمپنی نے ہائی فریکوئنسی ویلڈڈ فیبرک سے تیار خصوصی ملٹری خیمے پیش کیے، جنہیں پاکستان میں پہلی مرتبہ تیار کیا گیا ہے۔
یہ خیمے انفرا ریڈ ریڈیشن کو بلاک کرنے والے خصوصی پی وی سی میٹریل سے تیار کیے گئے ہیں، جس کی وجہ سے یہ ریڈار پر ظاہر نہیں ہوتے اور ڈرونز بھی ان کے اندر موجود افراد، حساس آلات یا بڑے ہتھیاروں کو اسکین نہیں کر سکتے۔
ماہرین کے مطابق یہ خیمے اگلے مورچوں پر کمانڈ سینٹر، ملٹری آپریشن کنٹرول روم، حساس کمیونی کیشن آلات اور بھاری اسلحہ دشمن کی نظروں سے اوجھل رکھنے کیلئے انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
عالمی نمائش میں مختلف ممالک کی جانب سے ان جدید خیموں میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا گیا، جس سے پاکستان کی تکنیکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو نئی پہچان ملی ہے۔
H. Nizam Din & Sons کے ہیڈ آف بزنس (انجینئرڈ ٹیکنیکل فیبرکس) کاشف احمد نے بتایا کہ یہ خیمے نہ صرف انفرا ریڈ ریڈیشن کو روکتے ہیں بلکہ آتشزدگی سے بھی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پی وی سی سے تیار ہونے کے باوجود یہ خیمے آگ نہیں پکڑتے، جبکہ ان کے جوڑ سلائی کے بجائے ہائی فریکوئنسی ویلڈنگ کے ذریعے کیے جاتے ہیں، جو انہیں انتہائی مضبوط بناتے ہیں۔
کاشف احمد کے مطابق ان خیموں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ انہیں بیرونی فریم کے ذریعے بہت کم وقت میں نصب کیا جا سکتا ہے، جو جنگی حالات میں فوری استعمال کیلئے نہایت مفید ہے۔
