کراچی میں شاہراہ بھٹو پر ایک تاجر سے مبینہ طور پر 25 لاکھ روپے لوٹ لیے گئے جبکہ مزاحمت پر ملزمان نے اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔
ذرائع کے مطابق ڈیفنس کے رہائشی تاجر حفیظ الرحمان لانڈھی داؤد چورنگی سے اپنی گاڑی میں شاہراہ بھٹو کے راستے قیوم آباد کی جانب جا رہے تھے۔
جیسے ہی وہ قیوم آباد کے قریب پہنچے، پیچھے آنے والی ایک گاڑی نے ان کی گاڑی کو ٹکر مار دی۔
تاجر نے اسے حادثہ سمجھتے ہوئے گاڑی سائیڈ پر روکی اور پیچھے جا کر دوسری گاڑی والوں سے بات کرنے لگا۔
اسی دوران 4 موٹر سائیکلوں پر سوار ملزمان ون وے کے ذریعے موقع پر پہنچے اور تاجر کو یرغمال بنا لیا۔
ذرائع کے مطابق ملزمان نے تاجر کو تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے واپس گاڑی میں لے گئے۔
ملزمان نے گاڑی کے پائیدان پر رکھا 25 لاکھ روپے سے بھرا بیگ اٹھا لیا جبکہ مزاحمت کرنے پر اسلحے کے بٹ مار کر تاجر کو زخمی بھی کیا۔
ملزمان گالم گلوچ اور دھمکیاں دیتے ہوئے تاجر کو گاڑی میں بٹھا کر اسلحے کے زور پر موقع سے فرار ہو گئے۔
واردات کے فوری بعد تاجر حفیظ الرحمان نے مددگار 15 پر پولیس کو اطلاع دی اور اپنے دفتر کو بھی آگاہ کیا۔
پولیس کے مطابق واقعہ 9 اور 10 اپریل کی درمیانی شب پیش آیا، تاجر حفیظ الرحمان قائد آباد میں واقع اپنے ہائیڈرنٹ سے ڈیفنس فیز 8 میں واقع رہائش گاہ جا رہے تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تاجر کے دوست اور منیجر کاشف اور نورا نے واقعے کی اطلاع دی، جس کے بعد شاہراہ بھٹو پر نصب کیمروں کی فوٹیجز حاصل کر کے تحقیقات شروع کی گئیں۔
پولیس کے مطابق متاثرہ فریق کو ایف آئی آر درج کرانے کا کہا گیا، تاہم انہوں نے ایف آئی آر درج کرانے سے انکار کر دیا۔
بعد ازاں پولیس کے دوبارہ رابطے پر روزنامچہ درج کروایا گیا، جس میں لکھا گیا کہ وہ کسی قانونی کارروائی کے خواہش مند نہیں۔
