میرپور (تکبیر نیوز) — رپورٹ: عمر تقویم الحسن
اہلِ سنت والجماعت کے سیاسی مستقبل، آزادکشمیر بھر میں اہلِ سنت کی جماعتوں کے درمیان اتحاد، یگانگت اور نظم و ضبط کو فروغ دینے، مساجد، مدارس اور خانقاہوں کے باہمی روابط مضبوط بنانے اور علمی، فکری و سیاسی شعور اجاگر کرنے کے لیے مرکزی علماء و مشائخ کونسل کے زیر اہتمام ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی میزبانی علامہ مفتی محمد وسیم رضا نے کی۔
مشاورتی اجلاس میں آزادکشمیر بھر سے اہلِ سنت والجماعت کے جید علماء کرام، مشائخ عظام، سجادہ نشینان، دینی و سماجی شخصیات اور نوجوان مذہبی اسکالرز کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس امر پر زور دیا گیا کہ موجودہ حالات میں اہلِ سنت والجماعت کے سیاسی و دینی کردار کو مؤثر بنانے کے لیے تنظیمی اتحاد ناگزیر ہے۔
شرکاء نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مساجد اور مدارس صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ نوجوانوں کی کردار سازی، اخلاقی تربیت اور معاشرے کو اسلامی اقدار کی طرف راغب کرنے کا مرکز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ سنت والجماعت کو مضبوط بنانے کے لیے تعلیماتِ اسلام کو عام کرنا اور اجتماعی حکمتِ عملی اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس میں آزادکشمیر میں امن و امان کے قیام، مذہبی ہم آہنگی اور اسلامی معاشرے کی تشکیل میں علماء کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ اگر اہلِ سنت کے علماء اور مشائخ متحد ہو جائیں تو نہ صرف دینی تشخص مضبوط ہوگا بلکہ سیاسی سطح پر بھی مؤثر آواز بن کر ابھریں گے۔
مشاورتی اجلاس میں مختلف قراردادیں بھی منظور کی گئیں، جن میں
اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ،
علماء و مشائخ کی سینیٹ اور اسمبلی میں مؤثر نمائندگی،
اور اہلِ سنت والجماعت کی مضبوطی کے لیے ہر سطح پر فعال کردار ادا کرنے کے عزم کا اظہار شامل تھا۔
میزبان تقریب علامہ مفتی محمد وسیم رضا نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہلِ سنت والجماعت میں اتحاد کی کمی کے باعث اس مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا تاکہ اسلامی اقدار، دینی تشخص اور سیاسی مستقبل کا واضح لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔ انہوں نے تمام معزز شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔
صدرِ تقریب سجادہ نشین دربار عالیہ نیریاں شریف پیر سلطان العارفین نے کہا کہ کشمیر جنت نظیر خطہ ہے جہاں باہمی اختلافات کے بجائے اتحاد و اتفاق کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ اپنے عقائد کو مضبوط کیے بغیر دینی بقا ممکن نہیں، اور اتحاد ہی ہماری اصل قوت ہے۔
دیگر مقررین نے بھی اس بات پر اتفاق کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ اہلِ سنت والجماعت سیاسی میدان میں بھرپور کردار ادا کرے اور ذاتی انا سے بالاتر ہو کر دین کی سربلندی کے لیے متحد ہو جائے۔
