تکبیر نیوز (ایسیکس): ایسیکس میں گاڑی چوری کے متاثرین نے کہا ہے کہ یہ جرم صرف گاڑی کا نقصان نہیں بلکہ لوگوں کی روزمرہ زندگی، روزگار اور مالی حالات کو بھی شدید متاثر کرتا ہے۔
ہوم آفس کے اعداد و شمار کے مطابق 2025-26 کے دوران ایسیکس میں 4,646 گاڑیاں چوری ہوئیں، جو فی کس شرح کے اعتبار سے انگلینڈ اور ویلز میں چوتھی بلند ترین شرح تھی۔
اگرچہ گزشتہ سال کے مقابلے میں گاڑی چوری کے واقعات میں 16 فیصد سے زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ایک دہائی پہلے کے مقابلے میں تعداد اب بھی زیادہ ہے۔ 2015-16 میں ایسیکس میں 3,327 کار چوری کے واقعات ریکارڈ ہوئے تھے، جبکہ 2023-24 میں یہ تعداد 5,979 تک پہنچ گئی تھی۔
“گاڑی چوری زندگی برباد کر دیتی ہے”
کلیکٹن آن سی سے تعلق رکھنے والی بچوں کی سپورٹ ورکر کلیئر کارنیل نے بتایا کہ ان کی Ford Kuga ستمبر کے آغاز میں گھر کے باہر سے چوری ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ گاڑی کام کے لیے ضروری تھی اور انہوں نے چابیوں کو Faraday pouch میں رکھا ہوا تھا تاکہ سگنل چوری نہ ہو سکے، لیکن اس کے باوجود چور دوسری تکنیک استعمال کرکے گاڑی لے گئے۔
ایسیکس پولیس نے کہا کہ متاثرہ خاتون سے تفصیلی بات کی گئی، CCTV کا جائزہ لیا گیا، گھر گھر پوچھ گچھ کی گئی اور انہیں حفاظتی مشورے بھی دیے گئے۔
چور نئی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے ہیں
ایک اور متاثرہ خاتون نے بتایا کہ چوری ہونے والی گاڑی میں ان کے کام کا سامان بھی موجود تھا۔ گاڑی نہ ہونے کے باعث انہوں نے فوری طور پر دوسری کار خریدی، لیکن چند دن بعد پہلی گاڑی مل گئی۔
ان کے مطابق دوسری گاڑی فروخت کرنے پر تقریباً £1,000 کا نقصان ہوا، جبکہ انشورنس کی ماہانہ قیمت بھی تقریباً £60 بڑھ گئی۔
متاثرین نے یہ بھی بتایا کہ بعض چور Wi-Fi blockers استعمال کرتے ہیں، جس سے گھر کے سیکیورٹی کیمرے یا ویڈیو ڈور بیلز ریکارڈنگ نہیں کر پاتے۔
سیکیورٹی ماہر کا مشورہ
تھروک سے تعلق رکھنے والے کار سیکیورٹی ماہر نک گوور کا کہنا ہے کہ گاڑی چور مسلسل اپنی تکنیک بدل رہے ہیں۔
ان کے مطابق Faraday pouches اب بھی کارآمد ہیں، لیکن چور بعض گاڑیوں کے الیکٹرانک نظام تک باہر سے رسائی حاصل کرنے کے نئے طریقے اختیار کر رہے ہیں۔
انہوں نے گاڑی مالکان کو اسٹیئرنگ لاک، اموبلائزر اور سگنل بلاک کرنے والے پاؤچز استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
صرف 3 فیصد کیسز میں چارج یا سمن
انگلینڈ اور ویلز کے اعداد و شمار سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ ریکارڈ شدہ کار چوری کے ایسے کیسز جن میں کسی شخص کو چارج یا عدالت میں طلب کیا گیا، ان کی شرح 2015-16 کے 10 فیصد سے کم ہو کر 2025-26 میں صرف 3 فیصد رہ گئی ہے۔
ایسیکس پولیس کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی چوری روکنا اس کی ترجیحات میں شامل ہے اور فورس intelligence-led approach کے ذریعے چوری شدہ گاڑیوں کی بازیابی اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔
پولیس کے مطابق اگست 2026 تک گزشتہ 12 ماہ میں ایسیکس میں گاڑی چوری کے واقعات میں 9 فیصد کمی ہوئی اور گزشتہ سال کے مقابلے میں 470 کم واقعات ریکارڈ ہوئے۔
