تکبیر نیوز (واٹرفورڈ): آئرلینڈ کے شہر واٹرفورڈ میں ایک گھر میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں دو بالغ افراد اور دو بچوں کی ہلاکت کے بعد پولیس نے قتل کی تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہیں، جبکہ ابتدائی تفتیش میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گھر کو جان بوجھ کر آگ لگائی گئی۔
ایمرجنسی سروسز کو منگل کی صبح 5 بجے کے کچھ دیر بعد برچ ووڈ کے علاقے میں واقع ایک گھر میں طلب کیا گیا تھا۔
مقامی طور پر جاں بحق بالغ افراد کی شناخت فلپ اور کم انگلش کے نام سے کی گئی ہے، جبکہ دو بچے بھی اس سانحے میں جان کی بازی ہار گئے۔
دو دیگر بچے شدید زخمی ہوئے اور بدستور اسپتال میں تشویشناک حالت میں زیرِ علاج ہیں۔
پولیس کو شبہ: آگ جان بوجھ کر لگائی گئی
بدھ کی صبح An Garda Síochána نے بتایا کہ رات بھر کوئی نئی اہم پیش رفت سامنے نہیں آئی، تاہم تفتیشی افسران اب بھی اس مؤقف پر ہیں کہ گھر پر نامعلوم شخص یا افراد نے حملہ کیا اور آگ دانستہ طور پر لگائی گئی۔
مقدمے کی تحقیقات Waterford Garda Station کی Serious Crime Unit کر رہی ہے۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس واقعے سے متعلق معلومات، مشکوک سرگرمی یا علاقے میں کسی شخص یا گاڑی کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات ہوں تو وہ سامنے آئے۔
علاقہ بدستور سیل
بدھ کی صبح جائے وقوع پر پولیس کی ناکہ بندی برقرار رہی اور متاثرہ سڑک تک رسائی محدود تھی۔
گزشتہ روز کے مقابلے میں علاقہ کافی خاموش رہا، جب پولیس، فائر سروس، مقامی افراد اور میڈیا کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی۔
کمیونٹی کے لیے نفسیاتی مدد
واقعے کے بعد قریبی Butler Community Centre میں ایک کمیونٹی سپورٹ ہب قائم کیا گیا ہے، جہاں مقامی افراد کے لیے کونسلرز اور دیگر معاون خدمات دستیاب ہیں۔
مقامی اسکولوں میں بچوں کی مدد کے لیے چھ ماہرِ نفسیات بھی تعینات کیے گئے ہیں۔
دعائیہ اجتماع اور فنڈ ریزنگ
واقعے میں جاں بحق افراد کی یاد میں Sacred Heart Church، The Folly میں بدھ کی شام 5 بجے دعائیہ اجتماع رکھا گیا ہے۔
خاندان کی مدد اور آخری رسومات کے اخراجات کے لیے قائم کی گئی آن لائن فنڈ ریزنگ مہم میں 27 ہزار یورو سے زائد جمع ہو چکے ہیں۔
آئرش صدر اور وزیراعظم کا اظہارِ افسوس
آئرلینڈ کی صدر کیتھرین کونولی نے واقعے کو ایک ہولناک حملہ قرار دیتے ہوئے جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے گہری تعزیت کی اور اسپتال میں زیرِ علاج بچوں کی صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیراعظم مائیکل مارٹن بھی اس واقعے کو “انتہائی پریشان کن صورتحال” قرار دے چکے ہیں۔
چیف سپرنٹنڈنٹ انتھونی پیٹٹ نے تصدیق کی ہے کہ پولیس نے برچ ایونیو، برچ ووڈ میں آتشزدگی اور چار ہلاکتوں کے بعد باضابطہ قتل کی تحقیقات شروع کر رکھی ہیں۔
