تکبیر نیوز (لندن): برطانیہ میں ایک نئے سروے کے مطابق لیبر پارٹی کے تقریباً تین چوتھائی ووٹرز چاہتے ہیں کہ وزیراعظم اینڈی برنہم اگلے انتخابی منشور میں یورپی یونین میں دوبارہ شمولیت کے لیے مذاکرات شروع کرنے کا واضح وعدہ شامل کریں۔
European Movement UK اور Observant کی جانب سے کیے گئے سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ اگر دوبارہ ریفرنڈم کرایا جائے تو 57 فیصد برطانوی ووٹرز یورپی یونین میں واپسی کے حق میں ووٹ دیں گے، جبکہ 30 فیصد اس کی مخالفت کریں گے۔
سروے کے مطابق بڑی سیاسی جماعتوں کے زیادہ تر ووٹرز اپنی جماعت کے اگلے انتخابی منشور میں یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کی پالیسی شامل کرنے کے حامی ہیں، جبکہ Reform UK کے ووٹرز اس معاملے میں نمایاں استثنا ہیں۔
اینڈی برنہم اس وقت برطانیہ کے وزیراعظم اور لیبر پارٹی کے سربراہ ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ 20 جولائی 2026 کو وزیراعظم بنے تھے، جبکہ جولائی میں ہی لیبر قیادت بھی سنبھالی۔
برنہم نے یورپی یونین میں واپسی کا امکان رد نہیں کیا
وزیراعظم برنہم نے حالیہ ہفتوں میں برطانیہ اور یورپی یونین کے تعلقات مزید قریب کرنے کی حمایت کی ہے اور اگلے لیبر منشور میں دوبارہ رکنیت کے وعدے کے امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا۔ لیبر پارٹی نے بھی اپنے حالیہ پیغام میں “یورپ کے ساتھ نئے تعلقات” کی بات کی ہے۔
رائٹرز کے مطابق برنہم کی حکومت نے حالیہ عرصے میں یورپ کے ساتھ قریبی تعلقات کی سمت واضح سیاسی تبدیلی دکھائی ہے۔
2036 تک واپسی کا روڈ میپ
European Movement UK نے ایک الگ رپورٹ میں برطانیہ کی 2036 یا اس سے پہلے یورپی یونین میں ممکنہ واپسی کے لیے روڈ میپ بھی پیش کیا ہے۔
اس منصوبے کی حمایت سابق کنزرویٹو نائب وزیراعظم مائیکل ہیزلٹائن، سابق لیبر رہنما نیل کناک اور سابق لبرل ڈیموکریٹ بزنس سیکریٹری سر ونس کیبل سمیت مختلف جماعتوں کی اہم شخصیات نے کی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دوبارہ رکنیت کے لیے برطانیہ کو واضح سیاسی مینڈیٹ، یورپی یونین کے تمام رکن ممالک کی متفقہ حمایت اور ممکنہ طور پر ایک اور عوامی ریفرنڈم درکار ہوگا۔
یورو اور شینگن اہم سوالات
رپورٹ میں برطانیہ کے لیے ممکنہ رکاوٹوں میں یورو کرنسی، شینگن فری ٹریول ایریا اور مذاکرات کے دوران تمام یورپی یونین ممالک کی منظوری کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
حامیوں کا مؤقف ہے کہ برطانیہ پہلے ہی یورپی قوانین کے ایک بڑے حصے کے ساتھ ہم آہنگ ہے، اس لیے دوبارہ شمولیت کا عمل بعض دوسرے ممالک کے مقابلے میں نسبتاً تیز ہو سکتا ہے۔
تاہم اس کے لیے یورپی یونین کو یہ یقین دلانا بھی ضروری ہوگا کہ برطانیہ میں دوبارہ رکنیت کے حق میں بڑی اور مستحکم عوامی اکثریت موجود ہے۔
بریگزٹ پر سیاسی بحث پھر تیز
اینڈی برنہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ بریگزٹ نے مطلوبہ نتائج نہیں دیے اور 2016 کے بعد برطانیہ کو طویل سیاسی اور اقتصادی تقسیم کا سامنا رہا ہے۔
برطانیہ کی یورپی یونین میں واپسی سے متعلق بحث ایسے وقت دوبارہ تیز ہو رہی ہے جب وزیراعظم کی حکومت یورپ کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنے کو اپنی پالیسی کا اہم حصہ بنا رہی ہے۔
