تکبیر نیوز (لندن): برطانوی حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس سے ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کے اعلان کے بعد واضح کیا ہے کہ لندن ماسکو پر دباؤ کم نہیں کرے گا اور روس کے خلاف اپنی سخت پابندیاں جاری رکھے گا۔
ڈاؤننگ اسٹریٹ کے ترجمان نے کہا کہ برطانیہ کی پوزیشن واضح ہے اور وہ یوکرین کو اپنی دفاعی ضروریات کے لیے فوجی اور مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ کام جاری رکھے گا۔ ترجمان کے مطابق روس پر برطانیہ کی جانب سے اب تک نافذ کیے گئے “سخت ترین پابندیوں کے نظام” کے ذریعے دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔
ٹرمپ اور روس کے درمیان ڈیزل معاہدہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ بات چیت کے بعد روسی ڈیزل کی فراہمی کے معاہدے کا اعلان کیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ابتدائی طور پر 3 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ڈیزل امریکا اور عالمی منڈیوں کے لیے فراہم کرنے کی بات کی گئی ہے، جبکہ مزید کھیپیں بھی آنے کی توقع ہے۔ امریکا نے اس فراہمی کو ممکن بنانے کے لیے روسی ایندھن سے متعلق بعض پابندیوں میں عارضی نرمی بھی کی ہے۔
یہ اقدام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا میں ڈیزل کی قیمتیں بلند سطح پر ہیں اور 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے مہنگائی اور ایندھن کی قیمتیں ٹرمپ انتظامیہ کے لیے اہم سیاسی مسئلہ بن چکی ہیں۔
برطانیہ نے ایک روز قبل نئی پابندیاں بھی لگائیں
برطانوی حکومت نے 8 اکتوبر کو روس کے خلاف مزید 38 نئی پابندیاں عائد کی تھیں، جن میں روسی تیل، نام نہاد شیڈو فلیٹ، مالیاتی نیٹ ورکس اور فوجی صنعت کو سامان فراہم کرنے والے افراد اور ادارے شامل ہیں۔
برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد روس کی جنگی معیشت، تیل کی آمدنی اور پابندیوں سے بچنے کے ذرائع کو محدود کرنا ہے۔
یوکرین کی شدید تنقید
یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے امریکا روس ڈیزل معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ روس کو تیل مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دینا ماسکو کو مزید مالی وسائل فراہم کر سکتا ہے اور جنگ ختم کرانے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
برطانیہ نے کہا ہے کہ وہ امریکا کی قیادت میں یوکرین میں منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، لیکن ساتھ ہی روس پر اقتصادی دباؤ بھی برقرار رکھے گا۔
