تکبیر نیوز (لندن): پرنس آف ویلز شہزادہ ولیم نے عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے دوستوں، اہلِ خانہ اور قریبی افراد کا حال ضرور پوچھیں، کیونکہ بعض اوقات ایک سادہ سی گفتگو بھی کسی کی زندگی میں بہت بڑا فرق ڈال سکتی ہے۔
شہزادہ ولیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر اپنے پیغام میں کہا کہ برطانیہ میں روزانہ تقریباً 20 افراد خودکشی سے جان گنوا دیتے ہیں، اور ہر عدد کے پیچھے ایک انسان، ایک خاندان اور ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس سے محبت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر آپ کسی کے بارے میں فکرمند ہیں تو اس سے رابطہ کریں، پوچھیں کہ وہ حقیقت میں کیسا محسوس کر رہا ہے، اس کی بات سنیں اور اسے احساس دلائیں کہ وہ اکیلا نہیں ہے۔
“ایک سادہ گفتگو امید کی شروعات بن سکتی ہے”
عالمی یومِ ذہنی صحت کے موقع پر ایک الگ بیان میں شہزادہ ولیم نے کہا کہ ہم ہمیشہ یہ نہیں جان سکتے کہ کوئی شخص اندر سے کس کیفیت سے گزر رہا ہے۔
ان کے مطابق کسی کا حال پوچھنے، بغیر تنقید کے اس کی بات سننے اور مہربانی دکھانے کے معمولی سے اقدامات بھی توقع سے کہیں زیادہ اثر ڈال سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات “ایک سادہ گفتگو ہی امید کی شروعات ہوتی ہے”۔
ذہنی صحت پر وسیع تر مہم
شہزادہ ولیم گزشتہ کئی برسوں سے ذہنی صحت اور خودکشی کی روک تھام سے متعلق مہمات میں سرگرم ہیں۔
ان کے Royal Foundation کے ذریعے National Suicide Prevention Network بھی شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد خودکشی کی روک تھام کے لیے مختلف اداروں، ماہرین اور کمیونٹیز کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے۔
گزشتہ ماہ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ نے کھیلوں کی دنیا کے لیے On Your Side toolkit بھی متعارف کرایا تھا۔
اس ٹول کٹ میں ایسے افراد کی شناخت، ان سے گفتگو شروع کرنے، خطرے کی علامات کو سمجھنے اور مناسب مدد تک پہنچانے کے لیے عملی رہنمائی فراہم کی گئی ہے۔
“بات کرنا مسئلہ نہیں بڑھاتا”
مہم میں اس عام غلط فہمی کو بھی چیلنج کیا گیا ہے کہ خودکشی کے بارے میں براہِ راست بات کرنا کسی کو ایسا قدم اٹھانے کی ترغیب دے سکتا ہے۔
اس کے برعکس ماہرین اور مہم کا مؤقف ہے کہ مناسب انداز میں گفتگو سے متاثرہ شخص خود کو سنا ہوا، کم تنہا اور مدد حاصل کرنے کے لیے زیادہ تیار محسوس کر سکتا ہے۔
شہزادہ ولیم نے کہا کہ خودکشی کی روک تھام تب زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب ذمہ داری صرف ایک فرد یا ادارے پر نہ ہو بلکہ معاشرے کے مختلف حصے مل کر کردار ادا کریں۔
ان کے مطابق اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ کر کسی کا حال پوچھنا اور ضرورت پڑنے پر اسے مناسب مدد کی طرف رہنمائی کرنا جان بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
