(تکبیر نیوز—- برطانیہ، ڈیون)
برطانیہ میں پانچ ہفتوں سے لاپتا 15 سالہ ٹیلر چارلٹن کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نئی معلومات موصول ہونے کے بعد ایک 20 سالہ شخص کو قتل کے شبہے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ڈیون اور کارنوال پولیس کے مطابق مشتبہ شخص کو 12 جون کو نارتھ ڈیون کے ایک پتے سے حراست میں لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم تاحال زیر حراست ہے جبکہ متعدد مقامات پر مزید تفتیش اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری ہے۔
ٹیلر چارلٹن 8 مئی کی رات بارنسٹیپل سے لاپتا ہوئے تھے اور پانچ ہفتے گزرنے کے باوجود ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
اس پیش رفت کے بعد ٹیلر کے دادا Andy Charlton نے عوام سے جذباتی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ لوگ افواہوں اور قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور پولیس کو اپنی تحقیقات مکمل کرنے دیں۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار شخص پر صرف شبہ ظاہر کیا گیا ہے اور ابھی کسی جرم کا حتمی تعین نہیں ہوا، اس لیے غیر مصدقہ باتوں کو پھیلانے سے اجتناب کیا جائے۔
تفتیشی افسر Charlotte Heath نے بتایا کہ گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران پولیس اور ماہر ٹیموں نے ٹیلر کی تلاش کے لیے وسیع پیمانے پر وسائل استعمال کیے، تاہم بدقسمتی سے اب تک ان کا سراغ نہیں مل سکا۔
انہوں نے کہا کہ اس ہفتے موصول ہونے والی نئی معلومات سے یہ امکان سامنے آیا کہ کسی شخص نے ٹیلر کو نقصان پہنچایا ہو سکتا ہے، جس کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک شخص کو گرفتار کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری تحقیقات کی کئی مختلف سمتوں میں سے صرف ایک ہے اور تفتیش کار ہر ممکن پہلو کا جائزہ لے رہے ہیں۔
حکام کے مطابق ٹیلر کی آخری تصدیق شدہ موجودگی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ریکارڈ ہوئی تھی، جہاں وہ 8 مئی کی رات 10 بج کر 41 منٹ پر بارنسٹیپل کے قریب ٹارکا لیزر سینٹر اور سیون برتھرن کار پارک کے نزدیک ایک پیدل راستے پر دیکھے گئے تھے۔ فوٹیج میں انہیں دریائے ٹاؤ کی سمت جاتے ہوئے دیکھا گیا۔
پولیس نے ایک بار پھر عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس اس رات کی سی سی ٹی وی، موبائل یا دیگر ریکارڈنگ موجود ہو یا اس نے ٹیلر کو دیکھا ہو تو فوری طور پر پولیس سے رابطہ کرے۔
پولیس اور خاندان دونوں نے عوام سے درخواست کی ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کریں تاکہ تحقیقات متاثر نہ ہوں اور حقیقت تک پہنچنے میں مدد مل سکے۔
