تکبیر نیوز (اسکاٹ لینڈ): اسکاٹش ہائی لینڈز میں منعقد ہونے والی منفرد ورلڈ پوریج میکنگ چیمپئن شپ میں نیدرلینڈز کی 28 سالہ جینا ساربرگ نے روایتی دلیہ بنانے کا سب سے بڑا اعزاز گولڈن اسپرٹل اپنے نام کرلیا، جبکہ آسٹریلیا کے روب ریڈ نے خصوصی کیٹیگری میں کامیابی حاصل کی۔
سالانہ مقابلہ ایوی مور کے شمال میں واقع کیربرج میں منعقد ہوا، جس میں 14 ممالک کے 30 امیدواروں نے حصہ لیا۔
جینا ساربرگ نے وہی ترکیب استعمال کی جس کی مدد سے وہ رواں سال جولائی میں نیدرلینڈز کی قومی چیمپئن بھی بنی تھیں۔
مقابلے کے قواعد کے مطابق روایتی دلیہ بنانے کے لیے صرف تین اجزا—جئی، پانی اور نمک— استعمال کرنے کی اجازت تھی۔
نیدرلینڈز سے پانی بھی ساتھ لے آئیں
جینا نے مقابلے کے لیے نامیاتی جئی اور نمک کے ساتھ اپنے ملک نیدرلینڈز سے پانی بھی ساتھ لانے کا فیصلہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کے آبائی شہر کا پانی بہت نرم ہے اور ممکن ہے اس میں موجود معدنیات نے دلیے کے ذائقے پر اثر ڈالا ہو۔
انہوں نے بتایا کہ طالب علمی کے زمانے میں کم خرچ کھانے کے طور پر جئی کا دلیہ کھانا شروع کیا تھا، لیکن روایتی انداز میں تیار ہونے والا دلیہ انہوں نے اس وقت تک نہیں چکھا تھا جب تک نیدرلینڈز میں دلیہ بنانے کے مقابلے کے بارے میں معلوم نہیں ہوا۔
ابتدا میں انہوں نے مقابلے میں شرکت کو محض تفریح سمجھا، لیکن قومی مقابلہ جیتنے کے بعد اب عالمی اعزاز بھی اپنے نام کرلیا۔
جینا کے مطابق مقابلے کی تیاری کے دوران انہوں نے دلیے میں نمک شامل کرنا شروع کیا اور انہیں محسوس ہوا کہ نمک جئی کے مختلف ذائقوں اور خوشبو کو مزید نمایاں کرتا ہے۔
آسٹریلوی چیمپئن کا منفرد ’پوریج کینولی‘
خصوصی کیٹیگری میں آسٹریلیا کے 36 سالہ روب ریڈ نے روایتی اطالوی میٹھے کینولی کو دلیے کے ساتھ ملا کر منفرد ڈش تیار کی اور کامیابی حاصل کی۔
اس کیٹیگری میں امیدواروں کو جئی کے ساتھ اپنی پسند کے دیگر اجزا استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔
روب کے والد کا تعلق اسکاٹ لینڈ جبکہ والدہ کا تعلق سسلی سے ہے۔ انہوں نے اپنی دونوں خاندانی روایات کو یکجا کرتے ہوئے پوریج کینولی تیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس کی کریم میں ریکوٹا، مسکارپونے اور چینی کے روایتی امتزاج کے ساتھ دلیہ شامل کیا گیا، جبکہ اس میں بھنی ہوئی پسی جئی بھی استعمال کی گئی۔
کینولی کے خول کی تیاری میں سسلی کی روایتی مارسالا وائن بھی استعمال کی گئی۔
روب نے آسٹریلیا کا قومی مقابلہ جیتنے کے بعد تقریباً چھ ہفتے اپنی ترکیب کو مزید بہتر بنانے میں گزارے تاکہ اسکاٹ لینڈ میں عالمی مقابلے کے لیے بھرپور تیاری کی جاسکے۔
1994 سے جاری منفرد عالمی مقابلہ
کیربرج میں دلیہ بنانے کی عالمی چیمپئن شپ کا آغاز 1994 میں ایک مقامی ہوٹل مالک نے کیا تھا۔
اس کا مقصد دلیے کے صحت سے متعلق فوائد کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ علاقے کو دنیا بھر میں متعارف کرانا تھا۔
مقابلے کے منتظم ایلن رینکن کے مطابق یہ ایک منفرد روایت ہے جس میں دوستانہ مقابلے اور خوشگوار ماحول کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
ہر سال دنیا کے مختلف ممالک سے امیدوار اسکاٹش ہائی لینڈز پہنچتے ہیں اور روایتی دلیے کے ساتھ ساتھ نت نئی ترکیبیں بھی پیش کرتے ہیں۔
