تکبیر نیوز (لندن): برطانیہ کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے چھ دوستوں نے ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری اپنی منفرد سالانہ روایت کے دوران لندن کے 205 پب گھومنے کا سنگ میل عبور کرلیا، جبکہ اس مرتبہ انہیں ٹاور آف لندن کے انتہائی محدود رسائی والے دی کیز پب میں جانے کا موقع بھی مل گیا۔
خود کو جولی بوائز کہنے والے یہ تمام دوست 50 سال سے زائد عمر کے ہیں اور ہر سال ستمبر کے تیسرے ہفتے کے آخر میں لندن میں اکٹھے ہوکر مختلف تاریخی پب دیکھنے نکلتے ہیں۔
اس سال انہوں نے مزید 35 پب اپنی فہرست میں شامل کیے، جس کے بعد ان کے دیکھے گئے پبوں کی مجموعی تعداد 205 ہوگئی۔
تین سال کی کوشش کے بعد خصوصی دعوت نامہ
اس سال کے سفر کی سب سے نمایاں بات 900 سالہ تاریخی ٹاور آف لندن کے اندر واقع دی کیز پب تک رسائی تھی۔
رپورٹ کے مطابق یہ پب عام لوگوں کے لیے کھلا نہیں اور عموماً وہاں خدمات انجام دینے والے یومن وارڈرز کے ذاتی مہمان ہی داخل ہوسکتے ہیں۔
گروپ کے رکن کارل ینگ کے مطابق انہیں یہاں داخل ہونے کا دعوت نامہ حاصل کرنے میں تقریباً تین سال لگے اور اس دوران مسلسل خطوط بھی لکھے گئے۔
انہوں نے اس شخص کی شناخت ظاہر نہیں کی جس کی مدد سے بالآخر انہیں دعوت نامہ حاصل ہوا۔
کارل ینگ کے مطابق دی کیز میں داخل ہونے کے لیے باقاعدہ لباس کی پابندی بھی تھی، جس میں جوتے، پتلون، جیکٹ، ٹائی اور شرٹ شامل تھے۔
گروپ نے تاریخی مقام پر تین گھنٹے سے زائد وقت گزارا اور ٹاور آف لندن کو رات کے لیے بند کرنے کی صدیوں پرانی سیریمنی آف دی کیز بھی دیکھی۔
ایک کتاب سے شروع ہونے والا سفر 205 پب تک پہنچ گیا
دوستوں کی یہ روایت اس وقت شروع ہوئی جب انہیں لندن کے تاریخی پبوں کے بارے میں ایک کتاب ملی اور انہوں نے کتاب میں شامل تمام مقامات پر جانے کا فیصلہ کیا۔
تمام پب دیکھ لینے کے بعد بھی انہوں نے یہ سلسلہ ختم نہیں کیا بلکہ اسے سالانہ روایت میں تبدیل کردیا۔
گروپ میں انجینئر رچرڈ مور، کارل ینگ اور ڈیو رسل، ہیئر ڈریسر جون مین، کاروباری شخصیت وان ولیمز اور کمرشل منیجر ٹریور پاور شامل ہیں۔
ہر سال دوست جمعے کو لندن پہنچ کر سینٹ پینکراس اسٹیشن کے بیٹجمن آرمز میں اکٹھے ہوتے ہیں، جس کے بعد پہلے سے تیار کردہ راستے کے مطابق اپنا سفر شروع کرتے ہیں۔
اس سال ان کا راستہ ویسٹ برومپٹن سے وسطی لندن تک پھیلا ہوا تھا۔
اگلا ہدف پارلیمنٹ کے اندر موجود بار
200 سے زائد پب دیکھنے کے باوجود جولی بوائز کا کہنا ہے کہ ان کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔
گروپ اب اگلے سال ہاؤسز آف پارلیمنٹ کے اندر موجود بارز تک رسائی حاصل کرنے کا خواہشمند ہے اور اس مقصد کے لیے ارکان پارلیمنٹ کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے اگلے سال ہفتے کے روز ایک ہی رات میں 30 پب دیکھنے کا منصوبہ بھی بنایا ہے۔
گروپ کے مطابق اس سالانہ سفر کا مقصد صرف مشروبات نہیں بلکہ پرانے دوستوں کا ایک ساتھ وقت گزارنا اور لندن کے مختلف تاریخی مقامات کو دیکھنا بھی ہے۔
کارل ینگ کا کہنا ہے کہ ہر سال پورے سفر کا تفصیلی راستہ پہلے سے تیار کیا جاتا ہے، جبکہ لندن کے نمایاں تاریخی پبوں کی بڑی تعداد دیکھ لینے کے بعد اب وہ مختلف علاقوں کا انتخاب کرکے نئے مقامات تلاش کرتے ہیں۔
