تکبیر نیوز (لندن): برطانوی وزیر انصاف الیکس نوریس نے کہا ہے کہ جیوری کے بغیر بعض مقدمات کی سماعت کا متنازع منصوبہ ختم کیے جانے کے باوجود موجودہ پارلیمانی مدت کے دوران عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد کم ہونا شروع ہوجائے گی۔
حکومت نے بعض فوجداری مقدمات کی سماعت صرف جج کے سامنے کرانے کا منصوبہ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد زیادہ سنگین مقدمات میں جیوری کا موجودہ کردار برقرار رہے گا۔
الیکس نوریس کا کہنا ہے کہ صرف جج کے ذریعے مقدمات کی سماعت کے لیے قانون سازی کرنا پیچیدہ ہوتا اور اس پر عمل درآمد میں وقت لگتا، جس سے عدالتی نظام میں اصلاحات کے مجموعی منصوبے کی رفتار متاثر ہوسکتی تھی۔
حکومت نے متنازع منصوبہ کیوں ختم کیا؟
وزارت انصاف کے مطابق حکومت اب ان وسیع تر اصلاحات کو تیزی سے نافذ کرنا چاہتی ہے جن کا مقصد مقدمات کے بڑھتے ہوئے بوجھ کو کم کرنا اور متاثرین کو طویل انتظار سے بچانا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ جیوری ٹرائل میں مجوزہ تبدیلی ختم کرنے سے وزارت اپنی توجہ دیگر عدالتی اصلاحات کو جلد نافذ کرنے پر مرکوز کرسکے گی۔
کراؤن کورٹ میں 80 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا
انگلینڈ اور ویلز کی عدالتوں میں زیر التوا مقدمات کا مسئلہ سنگین سطح پر پہنچ چکا ہے۔
وزارت انصاف کے تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جون 2026 کے اختتام تک کراؤن کورٹ میں 80,829 مقدمات زیر التوا تھے، جو دستیاب اعداد و شمار میں ایک نئی بلند ترین سطح ہے۔
ان میں 23,706 مقدمات ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے سے زیر التوا تھے۔
جیوری ٹرائل کے بعد نمٹائے جانے والے ایسے مقدمات، جن میں ملزم نے جرم قبول نہیں کیا، میں درمیانی انتظار کی مدت 49.7 ہفتے تک پہنچ چکی تھی۔
نوریس کو بیک لاگ کم ہونے کی امید
الیکس نوریس کا مؤقف ہے کہ متنازع تجویز واپس لینے سے عدالتی اصلاحات کا پورا منصوبہ زیادہ تیزی سے آگے بڑھایا جاسکے گا۔
حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ موجودہ پارلیمانی مدت کے دوران کراؤن کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کو کم کرنا شروع کردیا جائے گا۔
تاہم تازہ سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کو ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے، کیونکہ کراؤن کورٹ میں آنے والے مقدمات کی تعداد نمٹائے جانے والے مقدمات سے مسلسل زیادہ رہی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نئی اصلاحات کا بنیادی مقصد عدالتی نظام کی رفتار بڑھانا اور متاثرین کو انصاف کے لیے برسوں انتظار کرنے سے بچانا ہے۔
