تکبیر نیوز (لندن): مشرقی لندن کے ایک ریسٹورنٹ میں پٹرول چھڑک کر آگ لگانے کے انتہائی سنگین حملے میں متعدد گاہکوں کو زندگی بدل دینے والے زخم پہنچانے والے دو 17 سالہ لڑکوں کو 10،10 سال قید کی سزا سنادی گئی ہے۔
اولڈ بیلی کو بتایا گیا کہ یہ حملہ گینٹس ہل کی ووڈفورڈ ایونیو پر واقع انڈین اروما ریسٹورنٹ میں کیا گیا تھا۔
دونوں نوجوان ایک تیسرے شخص کے ساتھ اچانک ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے۔ عدالت کے مطابق انہوں نے وہاں موجود گاہکوں کو بڑے چاقو نما ہتھیاروں سے دھمکایا، جبکہ ان کے ساتھ موجود شخص نے کنستروں سے پٹرول فرش اور میزوں پر انڈیلنا شروع کردیا۔
دروازہ بند رکھا، پھر آگ لگا دی
عدالت کو بتایا گیا کہ حملہ آوروں نے ریسٹورنٹ کا دروازہ زیادہ تر بند رکھا جبکہ ان میں سے ایک نے کاغذ کے ایک ٹکڑے کو آگ لگائی۔
اس کے نتیجے میں ریسٹورنٹ کے اندر اچانک شدید آگ بھڑک اٹھی، جس سے وہاں موجود متعدد افراد بری طرح جھلس گئے۔
واقعے میں کئی گاہکوں کو شدید اور طویل مدتی جسمانی نقصان پہنچا۔
خاتون کا 50 فیصد جسم جھلس گیا
عدالت کو بتایا گیا کہ ایک خاتون کے جسم کا 50 فیصد حصہ جھلس گیا اور اس کی حالت اتنی سنگین تھی کہ اسے طبی طور پر بے ہوشی کی حالت میں رکھنا پڑا۔
اس خاتون کے شوہر کے جسم کا 51 فیصد حصہ جھلس گیا۔ واقعے کے دوران اسے آگ کی لپیٹ میں ریسٹورنٹ سے باہر بھاگتے ہوئے دیکھا گیا تھا۔
متاثرہ شخص نے بتایا کہ جلنے کے واقعے کے 45 روز بعد اسے ہوش آیا۔
ایک اور متاثرہ خاتون نے عدالت کو بتایا کہ صرف 30 سیکنڈ کے تشدد نے اس کی پوری زندگی کو بدل کر رکھ دیا۔
عدالت نے حملے کو انتہائی سنگین قرار دیا
سزا سناتے ہوئے جج مائیکل گریو کے سی نے کہا کہ دونوں نوجوان اس بات سے پوری طرح آگاہ تھے کہ ان کے اقدام سے مکمل طور پر اجنبی افراد کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے اور ان کی جان بھی جاسکتی ہے۔
جج نے کہا کہ انہیں اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ دونوں نوجوان کسی زیادہ عمر اور تجربہ کار مجرم کی ہدایت پر یہ کارروائی کر رہے تھے، تاہم اس شخص کی شناخت نہیں ہوسکی۔
عدالت نے حملے کے طریقۂ کار کو انتہائی سنگین قرار دیا۔
الزامات سے انکار، چھ ہفتے کے مقدمے کے بعد مجرم قرار
دونوں 17 سالہ لڑکوں نے اپنے خلاف تمام الزامات سے انکار کیا تھا، تاہم چھ ہفتے تک جاری رہنے والے مقدمے کے بعد انہیں مجرم قرار دیا گیا۔
اولڈ بیلی نے دونوں نوجوانوں کو الگ الگ 10 سال حراست کی سزا سنائی، جبکہ اس کے ساتھ تین سال کی توسیعی مدت بھی مقرر کی گئی ہے۔
حملے میں ملوث بتایا جانے والا تیسرا شخص اس مقدمے اور سزا سنائے جانے کی کارروائی کا حصہ نہیں تھا۔
